.

خلیجی شہری برطانیہ میں یومیہ 19 ہزار ڈالر ٹیکسی کرایہ ادا کرتے ہیں

عرب سیاحوں کی مسلح ڈرائیور یا سیکیورٹی گارڈ کی فرمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک اور تُرکی میں شورش کے بعد سیاحت کے دلدادہ خلیجی شہریوں نے برطانیہ کو اپنا متبادل سیاحتی مسکن بنانا شروع کردیا ہے لیکن لندن ان کے لیے نسبتا کسی بھی دوسرے شہر سے بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لندن میں سیرو سیاحت کے لیے آنے والے دولت مند خلیجی سیاح ایک ٹیکسی کا یومیہ کرایہ 19 ہزار ڈالر تک ادا کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق عرب اورخلیجی ممالک کے سیاحوں کے لیے خدمات انجام دینے والے ورکز کا ماننا ہے کہ برطانیہ خلیجی سیاحوں کی جنت ضرور ہے مگر یہ بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ پہلے تو لندن آنے کے لیے ہوائی جہازکی ٹکٹ ہی بہت مہنگی پڑے گی۔ پھریہاں کے ہوٹلوں میں قیام، طعام حتیٰ کہ ضرورت کی ہرشے دوسرے ملکوں سے گراں قیمت ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی سیاحوں کے لیے شام، ترکی، مصر اورلبنان جیسے ممالک زیادہ موزوں تھے جہاں وہ گرمی کی تعطیلات گذارنے آتے تھے لیکن ان ملکوں میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث انہیں برطانیہ کے مہنگے ٹرپ قبول کرنا پڑ رہے ہیں، جہاں انہیں بعض اوقات ایک ٹیکسی کا یومیہ کرایہ سولہ ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ یعنی انیس ہزار ڈالر ادا کرنا پڑتا ہے۔

لندن میں کرائے پر کاریں فراہم کرنے والی ایک فرم کے ڈائریکٹر جنرل صالح لوبانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عام طورپر کرائے کی ایک کار کا یومیہ 1600 ڈالر کرایہ وصول کیا جاتا ہے، لیکن گاہگ کی ضروریات کے پیش نظراس میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ کچھ عرب گاہک صرف ٹیکسی کرائے پر لیتے ہیں۔ کچھ اس کے ساتھ مسلح ڈرائیور کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ بعض تو الگ سے سیکیورٹی گارڈ بھی رکھواتے ہیں۔ اگر کوئی شخص چوبیس گھنٹے کے لیے کار بُک کرنے کے ساتھ ایک عدد سیکیورٹی گارڈ بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے تو اسے ان چوبیس گھنٹوں کا انیس ہزار ڈالر کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

لوبانی نے بتایا کہ بعض امراء کے گھرانوں کے افراد، شاہی خانوادے اور سیاست دان بلٹ پروف گاڑیوں کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کی ضرورت کے مطابق انہیں بلٹ پروف کاریں بھی رینٹ پر دی جاتی ہیں۔ خلیجی امراء کے لیے لندن ماضی میں بھی سیاحت کی جنت رہا ہے۔ شہر کی تاریخی اور سیاحتی اہمیت کے ساتھ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی سیاحوں کو اپنی جانب کھینچی رہتی ہے۔ مثلا لندن سے پیرس تک ٹرین کے ذریعے صرف دو گھنٹے میں پہنچا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دیگر یورپی شہروں ویانا، جنیوا اور برسلز کی مسافت بھی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ لندن آنے والے ان یورپی شہروں کی سیر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔