.

مفتیٔ اعظم روس کا قرآن کے ترجمے کے خلاف عدالتی فیصلے پر احتجاج

روسی صدر کے نام خط میں عدالتی فیصلے کو جاہلانہ اور اشتعال انگیز قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے مفتیٔ اعظم نے ایک صوبائی عدالت کے قرآن مجید کے ایک ترجمے کو انتہا پسند قرار دے کر ضائع کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

روس کے مفتیان عظام کی کونسل کے سربراہ رویل غین الدین نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے عدالتی فیصلے کو جاہلانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

روسی زبان میں الامیرکلیوف کا کیا ہوا قرآن مجید کا یہ ترجمہ روس میں دستیاب ہے۔ یہ ترجمہ سعودی عرب میں سنہ 2002ء میں شائع کیا گیا تھا۔ایک صوبائی عدالت نے گذشتہ ہفتے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ یہ ترجمہ انتہا پسندانہ مواد پر پابندی کے خلاف وفاقی قانون کے منافی ہے اور اس میں اس قانون کی خلاف ورزی کی گئِی ہے۔

مفتی غین الدین نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ''روسی مسلمان بحر اسود کے کنارے واقع شہر نووروسسکی کی عدالت کی جانب سے قانون کو نظرانداز کرنے پر ہکا بکا رہ گئے ہیں''۔ انھوں نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے اورکہا ہے کہ عدالت کا مسلمانوں کی مقدس کتاب کو ضائع کرنے کا حکم خاص طور پر بہت ہی اشتعال انگیز ہے۔