.

کینیا کی فوج کا نیروبی شاپنگ مال سے یرغمالی بازیاب کرانے کا دعویٰ

یرغمالی چھڑانے کے لیے اسرائیلی کمانڈوز سے مدد لی گئی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیا کی مسلح افواج نے دارالحکومت نیروبی کے ایک بڑے کاروباری مرکز میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ "ویسٹ گیٹ" شاپنگ مال میں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے بیشتر افراد کو رہا کرا لیا گیا ہے اور شاپنگ مال کا بڑا حصہ بھی اب فوج کے کنڑول میں آ چکا ہے۔

کینیا کی فوج کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ "نیروبی شاپنگ مال پر حملے کے بیشتر یرغمالی رہا کرا لیے گئے ہیں۔ دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی عمارت کے زیادہ ترحصے پر فوج کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ معاملے سے نمٹنے کے لیے فوج نہایت سرعت کے ساتھ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور جلد ہی صورت حال پر قابو پا لیا جائے گا۔"

کینیا کی فوج کی جانب سے یرغمالیوں کو چھڑانے کے دعوے کے باوجود وہاں پر موجود کسی صحافی یا عینی شاہد نے عمارت سے ایسے کسی شخص کے باہر لائے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ میڈیا کے نامہ نگار فوج کے بیان کے بعد مسلسل اپنی نظریں عمارت سے نکلنے والے لوگوں پرجمائے ہوئے ہیں لیکن آخری اطلاعات تک کوئی یرغمال باہر نہیں آیا ہے۔ امدادی اداروں کے اہلکاروں نے بھی فوجی دعوے کے درست ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک کوئی زخمی یرغمالی نہیں دیکھا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے"اے ایف پی" کو کینیا کے ایک عسکری ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز نیروبی کے شاپنگ مال میں حملے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے اسرائیلی فوج سے بھی مدد لی گئی ہے۔ فوجی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اسرائیلی کمانڈوز کی اسپیشل یونٹ کے اہلکار اتوارکی علی الصباح نیروبی پہنچے تھے جہاں انہوں نے تجارتی مرکز کے اندر اغواء کاروں کے خلاف کارروائی کی اور زخمیوں اور مغویوں کی بازیابی میں معاونت کی ہے." خیال رہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نیروبی کے "ویسٹ گیٹ" شاپنگ مال میں اسرائیلیوں کے شیئرز بھی بتائے جاتے ہیں۔

ادھر برطانوی خبر رساں ادارے"رائیٹرز" نے اسرائیلی فوج کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ فوج کے مشیران شاپنگ مال کا محاصرہ ختم کرانے اور دہشت گردوں کو شکست دینے کی حکمت عملی کے بارے میں نیروبی حکام کی مدد کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے بھی اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ تجارتی مرکز پر بلوائیوں کا قبضہ ختم کرانے اور دہشت گردوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی حکمت عملی سے متعلق اسرائیلی مشیر تعاون کر رہے ہیں، تاہم وہ براہ راست کارروائی میں شریک نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز نیروبی کے مصروف شاپنگ مال میں دہشت گردوں کے حملوں میں کم سے کم 59 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہو گئے تھے۔ مہلوکین کے حتمی تعداد کا فی الحال تعین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عمارت کے اندر موجود حملہ آوروں نے بڑی تعداد میں مقامی اورغیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔