.

امریکی سرمایہ کار بھارت کی کاروباری ہیرا پھیریوں سے دلبرداشتہ

منموہن سنگھ کی آمد پر مخالفانہ اشتہاری مہم، اوباما بھی بات کرینگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں خریداروں اور کاروبار کے حوالے سے بڑی مارکیٹ سمجھے جانے والے ملک بھارت کے وزیر اعظم کو امریکا پہنچنے پر اپنے ملک کی کاروبار'' ہیرا پھیریوں'' کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی میڈیا میں امریکا کی نیشنل ایسوسی یشن آف مینوفیکچررز نے ایسی مہم شروع کر دی ہے جس میں بھارت سے کاروباری دیانت اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ امریکی سرمایہ کاروں کی مہم کامیاب رہی تومن موہن سنگھ کے لیے یہ دورہ خسارے کا سودا ہو گا۔

امریکی سرمایہ کاروں کی یہ مہم ان کوششوں کے بعد تنگ آمد بجنگ آمد کی صورت میں سامنے آئی ہے جو اس سے پہلے اوباما انتظامیہ سے مطالبات کی شکل میں آتی رہی ہیں، کہ بھارت کو تجارتی پالیسیوں میں بہتری لانے اور کاروباری دیانت اختیار کرنے کے لیے قائل کیا جائے۔

سالہا سال کے تجربات کے بعد امریکی سرمایہ کار اور امریکی کانگریس کے ارکان کی بڑی تعداد اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ '' بھارت کو امریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاملات میں دیانتداری لانے کی ضرورت ہے۔ ''اس امر کا اظہار بھارتی وزیر اعظم کی امریکا آمدکے موقع پر اشتہاری مہم میں بھی انہی لفظوں میں کیا گیا ہے۔

اگرچہ بھارت کو کاروباری اعتبار سے منصفانہ اپروچ اختیار کرنے کے لیے شروع کی گئی اس مہم پر اٹھنے والی لاگت کا باضابطہ تخمینہ سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ امریکا کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بڑے بڑے اشتہاروں کے ساتھ نظر آنے والی اس مہم پر کئی ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ تاکہ امریکی سرمایہ کاروں کو بھارت میں اربوں ڈالر کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

امریکی سرمائے کو بھارت میں خطرے کی بو محسوس کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے 170 ارکان بھی تحریر طور پر وزیر خارجہ جان کیری سے پہلے ہی تجارتی معاملات میں بھارت کی عدم دیانت کی شکایت کر چکے ہیں۔

وائٹ ہاوس کے حکام کے مطابق توقع ہے کہ من موہن سنگھ کی صدر اوباما سے جمعہ کو وائٹ متوقع ملاقات میں بھی اس اہم اور سنگین صورتحال پر بات ہو گی ۔ بھارت سے کاروباری ایمانداری کی مانگ پر مبنی اس اشتہاری مہم میں بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کی سطح پر اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے۔

امریکی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ '' بھارت کی طرف سے امتیازی تجارتی حربوں پر نظر ثانی اور امریکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکل آیا تو آئندہ برسوں میں بھی امریکیوں کی بھارت میں سرمایہ کاری سے بھارتی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہو اور بھارتی عوام کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکی سرمایہ کاروں کو شکایت یہ ہے کہ بھارتی عدالتیں اور حکومت دونوں ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے نقصان اور مشکلات بڑھانے والے جبکہ بھارتی تجارتی کمپنیوں کو بلا جواز طور پرفائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان فیصلوں میں عالمی سطح پر موجود مسلمہ تجارتی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔