.

شام میں جاری خونریزی پر جلتی پر تیل کا کام نہ کیا جائے:بین کی مون

تنازعے کے دونوں فریق دنیا کے بڑے چیلنج کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے عالمی لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں جاری خونریزی کو ہتھیاروں کے ساتھ ایندھن دینے کا سلسلہ بند کردیں اور تنازعے کے دونوں فریق دنیا کے امن وسلامتی کو درپیش بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ماہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف عالمی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر ہلچل ہوئی ہے اور ایک لمبے عرصے کے بعد اتحاد کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بین کی مون نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ''وہ امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے طے پائے سمجھوتے کی بنیاد پر ایک قابل نفاذ قرارداد کی منظوری دے جس کے تحت شامی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں لایا جائے اور 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت یا عالمی قانون کے تحت کسی دوسرے میکانزم کے تحت مقدمہ چلایا جائے''۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''اگر شام میں جنگ جاری رہتی ہے تو عالمی برادری صرف کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے مطمئن نہیں ہوگی کیونکہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سلسلہ تو روایتی ہتھیاروں سے جاری ہے۔اس لیے میں تمام ریاستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خون ریزی کو ایندھن دینے سے گریز کریں''۔

انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف پر زوردیا کہ ''وہ انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ورکروں کی متاثرین تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کریں اور ہزاروں زیرحراست مردوخواتین اور بچوں کو رہا کریں کیونکہ ان کی حراست کا بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی جواز نہیں ہے''۔