.

یو این معائنہ کار 25 ستمبر کو دوبارہ دمشق جائیں گے

شامی کیمیائی ہتھیاروں پر امریکا، روس مذاکرات میں اختلافات ہیں: سرگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات ٹھیک انداز میں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ مذاکرات ایسے ٹریک پر نہیں ہیں جس پر انہیں ہونا چاہیے ہے۔ یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ نے اپنی پارلیمنٹ کو بتائی ہے۔

ان کا کہنا تھا اقوام متحدہ کے معائنہ کار 25 ستمبر کو دوبارہ دمشق جا کر کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا روس امریکا مذاکرات اس سمت پر نہیں ہیں جس پر انہیں ہونا چاہیے تھا، نہ ہی معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں پر سمجھوتہ صرف امکانی امریکی کارروائی کی وجہ سے التواء میں ہے۔ واضح رہے کہ سمجھوتے کی شرط یہ ہے کہ شامی صدر کیمیائی ہتھیار اگلے سال کے وسط میں بین الاقوامی برادری کے حوالے کریں گے۔

اس موقع پر روس کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا شام کو طاقت کے ذریعے سزا دینے کا امریکی فیصلہ اب بھی اپنی جگہ پرپوری طاقت سے موجود ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا اس صورت حال میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے خلاف جارحانہ کارروائی کا امریکی پروگرام فی الحال صرف ملتوی کیا گیا نہ کہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے۔

اپنی پارلیمنٹ کو روس کے نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے معائںہ کار 25 ستمبر کو دوبارہ دمشق جا سکتے ہیں تاکہ 21 اگست کو الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کر سکیں۔

یو این چارٹر کے باب سات کے مطابق پابندیوں یا فوجی کارروائی کی سزا صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے کہ کسی ملک نے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہو۔ اس باب نمبر سات کا اطلاق صرف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تعاون نہ کرنے پر کیا جا سکتا ہے۔