.

امریکا کے روایتی ہتھیاروں کی تجارت کے عالمی معاہدے پر دستخط

آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے تحت روایتی ہتھیاروں کی تجارت کو باضابطہ بنایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں اسلحے اور ہتھیاروں کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک امریکا نے اقوام متحدہ کے روایتی ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے (اے ٹی ٹی) پر دستخط کردیے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس کا مقصد روایتی ہتھیاروں کی تجارت کو باضابطہ بنانا ہے اور اس کے تحت دنیا بھر میں روایتی ہتھیاروں کی قریباً 80 ارب ڈالرز مالیت کی سالانہ تجارت کو باضابطہ بنایا جائے گا۔

امریکی وزیرخارجہ کے معاہدے پردستخط کے باوجود سینیٹ کی جانب سے اس کی توثیق کی ضروری ہے جبکہ امریکا میں اسلحہ کی حامی تنظیم کی جانب سے اس معاہدے کی مخالفت کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپریل میں اے ٹی ٹی کی منظوری دی تھی اور 154 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ صرف تین ممالک ایران ،شمالی کوریا اور شام نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ممالک کو اسلحہ کی ترسیل روکی جاسکے گی۔اٹلی نے یورپی یونین کے رکن ممالک میں سے سب سے پہلے اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ میں طویل بحث ومباحثے کے بعد اس معاہدے کی منظوری دی گئی تھی اور گذشتہ سال اس معاہدے پر بات چیت اس وقت تعطل کا شکارہوگئی تھی جب امریکا نے اس کے مجوزہ مسودے پر مزید کام کے لیے وقت طلب کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدے سے بین الاقوامی سطح پر بدترین جرائم کے لیے استعمال ہونے والے روایتی ہتھیاروں کے استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

جان کیری نے اس معاہدے کی توثیق کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مضبوط ،موثر اور قابل عمل ہے۔انھوں نے بالاصرار یہ بات کہی ہے کہ اس سے امریکی آئین اور ہتھیار رکھنے کے دوسرے ترمیمی حق کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔انھوں نے اپریل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ''اس معاہدے سے عالمی سکیورٹی مضبوط ہوگی اور اسلحے کی قانونی تجارت کے لیے خودمختار ریاستوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا''۔

واضح رہے کہ ؁ 1996ء میں طے پائے جوہری تجربات پر پابندی کے جامع معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کے بعد اقوام متحدہ کے تحت اسلحے سے متعلق یہ ایک بڑا معاہدہ ہے۔اب ممالک کے درمیان تمام روایتی ہتھیاروں کی تجارت اس کے دائرہ کار میں آئے گی۔البتہ یہ خودکار طور پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ ہتھیاروں کی برآمدی صنعت کو قابل قبول حدود وقیود کا پابند بنایا جائے گا۔