.

اوباما جنگجو پریشر گروپوں کو نظر انداز کردیں: روحانی

دینا کیلیے ایران خطرہ نہیں، کیمیائی ہتھیار مشرق وسطی کیلیے خطرہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں امریکا ایران تعلقات میں بہتری لانے اور اختلافات طے کرنے کے لیے امریکی صدر براک اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خواہاں پریشر گروپوں کو نظرانداز کر دیں تو اختلافات پر قابو پانے کے فریم ورک کو آگے بڑھانے میں بہتری آ سکتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر حسن روحانی کی یہ عالمی سطح پر پہلی رونمائی تھی۔

ایرانی صدر نے جنرل اسمبلی سے صدر اوباما کے اس سب سے بڑے عالمی فورم کے کچھ ہی دیر بعد کیے گئے خطاب میں جنگ کے حامی پریشر گروپس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ''صدر اوباما کو ایرانی جوہری تنازعے سے سے نمٹتے ہوئے اطیمنان میں رہنا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے لیے خطرے کا موجب نہیں ہے۔''

حسن روحانی کا کہنا تھا '' ایرانی جوہری پروگرام خالصتا پر امن ہے، جوہری ہتھیار اور عوامی تباہی کے دیگر ہتھیار ایران کی دفاعی'' ڈاکٹرائن'' میں کوئی جگہ نہیں رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ہتھیار ہمارے دینی اور اخلاقی ایمانیات سے متصادم ہیں ۔'' انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلاتے ہوئے کہا ان کا ملک جوہری معاملے پر ایک بامعنی، نتیجہ خیز اور متعین نظام الاوقات کے ساتھ ٘مذاکرات کرنے پر تیار ہے۔

روحانی نے مشرق وسطی کے لیے سب سے بڑے امکانی خطرے کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا یہ کیمیائی ہتھیاروں کا انتہا پسند اور دہشت گروپوں کے ہاتھ لگ جانا ہو گا۔ واضح رہے ایران شام کے صدر بشارالاسد کا اہم اتحادی ہے جو شام میں خانہ جنگی کا الزام عام طور پر انتہا پسند گروپوں اور انتہا پسندوں پر عائد کرتے ہیں۔ صدر حسن روحانی عسکریت اور سیاسی تشدد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا یہ چیزیں دوسرے ملکوں کے لیے بھی تخریب کا ذریعہ بنتی ہیں۔

ایرانی صدر نے اس موقع پر امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ڈرون حملوں کو معصوم انسانوں کی جان لینے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ڈرون میزائل حملوں کی مذمت کی اور کہا ایران کے خلاف لگائی پابندیاں بلاجواز ہیں۔

انہوں نے کہا ایرانی جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا عالمی برادری نے ان کے ملک کی ان جوہری سرگرمیوں کو قبول کر لیا ہے جنہیں مغربی ممالک جوہری بم بنانے کے قریب پہنچا پروگرام بتاتے ہیں۔