.

توہین رسالت پر مبنی فلم بنانیوالے کی جمعرات کو رہائی

نکولا باسیلی کوبنک فراڈ کیس میں ایک سال قید ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والی توہن رسالت پر مبنی فلم کے پروڈیوسر نکولا باسیلی کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم وفاقی جیل سے 26 ستمبر کے روز رہا کر دیا جائے گا۔ اس فلم کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں سخت احتجاج سامنے آیا تھا اور کئی مقامات پرتشدد واقعات بھی پیش آئے تھے۔

وفاقی بیورو برائے جیل خانہ جات کے ترجمان ایڈ روس نے عالمی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ 56 سالہ نکولا باسیلی نکولا کو ابھی جنوبی کیلیفورنیا میں قید ہے اور وہ اپنی سزا پوری کر چکا ہے ۔

نکولا باسیلی کو ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات پرتو کسی قانونی یا عدالتی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑا البتہ گزشتہ سال نومبر میں ایک بینک فراڈ کیس میں ایک سال قید کی سزا ضرور ہو گئی سنائی گئی تھی۔ نکولا باسیلی نے جھوٹے نام استعمال کر کے بنک سے قرضہ لیا تھا.

اس سال کے اوائل میں فاکس نیوز کو دئیے جانے والے ایک انٹرویو میں نکولا نے کہا تھا کہ وہ اپنی فلم پر فخر کرتا ہے اور اس کا مقصد اسلام کی توہین کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا تھا۔

نکولا نے فاکس نیوز کو فون پر دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ،" میرے بہت سے مسلمان دوست ہیں اور تمام مسلمان اس دہشت گردی کے کلچر میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ یقین رکھتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں اس کلچر کے خلاف لڑنا ہوگا۔ میرا دشمن دہشت گردی کا کلچر ہے۔"

نکولا باسیلی کی جانب سے بنائی گئی فلم میں معاذاللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمجی شام میں گستاخی کی تھی، جس کی وجہ سے مختلف مسلم ممالک میں پرتشدد ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ اس احتجاج کے دوران مصر، یمن اور لیبیا میں امریکی سفارتخانوں پر حملے بھی کئے گئے تھے اور کئی افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان میں اس توہین آمیز مواد کی یوٹیوب پر موجودگی کی وجہ سے وڈیو شئیرنگ کی اس سماجی ویب سائٹ کو بند کردیا تھا اور یہ پابندی ابھی تک برقرار ہے۔ لیکن دلچسپ بات ہے ایک طرف اس فلم ساز کی رہائی ہو رہی ہے اور دوسری جانب پاکستان میں یو ٹیوب پر عائد پابندی ختم کرنے کی تیاری ہو رہی ہے