.

سوڈان: تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے، متعدد ہلاک و زخمی

خرطوم میں حکمراں جماعت کا دفتر نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل کی دولت سے مالا مال افریقی ملک سوڈان میں پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے حکومتی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں جن میں پولیس کی فائرنگ سے کم سے کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔

خرطوم پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ دارالحکومت اور بعض دوسرے بڑے شہروں میں منگل کو پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے خلاف ہونے والا احتجاج تخریبی کارروائیوں میں بدلنے لگا تھا۔ مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لے کرسرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور املاک کو نذرآتش کرنا شروع کردیا، جس کے بعد پولیس کو قانون حرکت میں لاتے ہوئے مظاہرین کو طاقت کے ذریعے منتشر کرنا پڑا ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق قتل ہونے والا شخص ایک شہری کی دکان توڑ کر سے لوٹنے کے بعد فرار ہو رہا تھا۔ پولیس نے اس ک تعاقب کیا تو اس نے پولیس پارٹی پربھی گولیاں چلائیں۔ پولیس نے اسے پکڑنے کے لیے گولی ماری تاہم وہ موقع پرہی ہلاک ہو گیا۔

ریاست الجزیرہ میں تخریب کاروں کےمتعدد گروپ سرکاری اور نجی املاک پر پل پڑے۔ مظاہرین کی جانب سے مقامی بس اسٹینڈ، ٹیلی ویژن دفتر، بجلی سپلائی کمپنی اور پولیس چوکیوں پر حملے کیے گئے۔ جواب میں پولیس کو کارروائی کرنا پڑی ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر خرطوم میں عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے منگل کے روز احتجاج کے دوران حکمران جماعت نیشنل کانگریس کے ہیڈ کواٹر کو آگ لگا دی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ "میں نیشنل کانگریس کے ہیڈ کواٹر سے کوئی تین سو میٹردور تھا کہ مظاہرین کا ایک گروپ اچانک وہاں آ پہنچا۔ انہوں نے آتے ہی دفتر پرپٹرول بم پھینکے اورآگ لگادی۔ آتشزدگی سے نیشنل کانگریس کے تین منزلہ دفترکو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

مظاہرین ابھی مزید توڑ پھوڑ بھی کر رہے تھے تاہم پولیس نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔ خرطوم کے مضافات میں "بامبدہ جمبیعات" کے مقام پربھی حکمراں جماعت کے دفتر کو نذرآتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔