.

قطرائیرویز کو فضائی میزبانوں پرقدغنیں لگانے پر تنقید کا سامنا

ملازمائیں شادی کی پیشگی اجازت لینے اور امید سے ہونے کی اطلاع دینے کی پابند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطرکی ملکیتی بین الاقوامی فضائی کمپنی قطر ائیرویز کو اپنی خاتون ملازماؤں پر مختلف قدغنیں عاید کرنے اور انھیں شادی سے قبل اس کی اجازت طلب کرنے کا پابند بنانے پر تنقید کا سامنا ہے ۔

انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (آئی ٹی ایف) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''قطرائیرویز نے ایک طرف تو اپنی فضائی میزبانوں کو اس بات کا پابند بنارکھا ہے کہ وہ شادی سے قبل پیشگی اجازت طلب کریں۔اس کے بعد اگرکوئی فضائی میزبان حاملہ ہوجاتی ہے تو وہ اپنے سپروائزر کو اس کی اطلاع دینے کی پابند ہے''۔

فضائی میزبان کے حمل سے ہونے کے انکشاف کے بعد قطری فضائی کمپنی کے پاس اس کو فارغ خطی دینے کا حق محفوظ ہے۔آئی ٹی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ضابطہ اور اقدام قطرائیرویز کے 28 ہزار ملازمین کے بنیادی لیبر حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

العربیہ نے جب قطرائیرویز سے بدھ کو اس رپورٹ پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا تو اس کی سنئیر کارپوریٹ کمیونیکشنز مینجر میڈونا واش نے کہا کہ اس کے ردعمل میں بہت جلد ایک بیان جاری کیا جائے گا۔انھوں نے اس موضوع پر مزید کوئی بات کرنے سے انکار کردیا۔

آئی ٹی ایف کے مطابق قطرائیرویز کی خاتون ملازماؤں کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ''اگر آپ اپنی ازدواجی حیثیت تبدیل کرنا اور شادی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو کمپنی سے پیشگی اجازت لینا ہوگی''۔

''ملازمہ کو حمل کی صورت میں اس کی تاریخ کا پتا چلنے کے بعد آجر کو بتانا ہوگا۔آجر کو پھر حمل کی تاریخ سے ملازمت کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا۔اگر اس امر کو چھپایا جاتا ہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی متصور ہوگی''۔

قطرائیرویز پر ان الزامات کے باوجود انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے جنرل سیکرٹری شاران برو نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ قطری فضائی کمپنی اپنے آپریشنز سے متعلق بہتر تصویر پیش کرے گی اور ان الزامات کو غلط قراردے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے ایسی کہانیاں سنی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تاریخ کی بدترین فضائی کمپنی ہے۔اس میں خواتین کے ساتھ خاص طور پر ناروا سلوک کیا جاتا ہے اوراس میں حقوق سے انکار کا خوفناک کلچر مروج ہے۔درحقیقت یہ ایک ایسی صنعت میں غیر انسانی اپروچ ہے جس میں لوگوں کے ایک دوسرے پر اعتماد ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے''۔

آئی ٹی ایف دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک کے قریباً پینتالیس لاکھ ٹرانسپورٹ ورکروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس نے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قطر اور متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنیوں کے ملازمین کے لیبرحقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے سلسلے کو روکے اور اس ضمن میں ان خلیجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جائے اور انھیں ملازمین کے جملہ حقوق کے تحفظ کا پابند بنایا جائے۔