.

مالی مِیں اقوام متحدہ کی امن فورس اخلاق سوز سرگرمیوں میں ملوث

امن دستوں پر جنسی بے راہ روی اور دوسرے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسے افریقی ملک مالی میں تعینات عالمی امن فورس میں شامل فوجیوں کے جنسی جرائم اور دوسری سنگین بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ انھیں مالی کے شمال مشرقی شہر گئیو میں 19 اور 20 ستمبر کو رونما ہونے والے واقعات میں امن دستوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔البتہ ترجمان نے ان الزامات کی تفصیل نہیں بتائی۔

مارٹن نیسرکی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے اور مالی میں جن ممالک کے فوجی امن سرگرمیوں میں شریک ہیں،انھیں ان الزامات کی اطلاع دی جارہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی عالمی امن فورس میں شرکت کے لیے دستے بھیجنے والے ممالک کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کریں اور اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو پھر ملوث فوجیوں کے خلاف انضباطی اور عدالتی کارروائی کریں۔

مالی میں اقوام متحدہ کی امن فورس نے جولائی میں افریقی یونین کے دستوں کی جگہ ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔وہ مالی کے شمالی علاقے میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں کے ساتھ نبردآزما ہیں۔اقوام متحدہ کی امن فورس میں ساڑھے پانچ ہزار فوجی اور آٹھ سو پولیس اہلکار شامل ہیں اور توقع ہے کہ سال کے آخر تک ان کی تعداد دگنا ہوجائے گی۔

بین کی مون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ''مالی میں اقوام متحدہ کے مشن میں شامل تمام فوجی ،پولیس اور سویلین سے اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔سیکرٹری جنرل نے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے معاملے میں کوئی رورعایت نہ برتنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور مناسب احتساب روبہ عمل ہوگا''۔