.

موسم حج کی آمد: غلاف کعبہ زیریں سمت سے ساڑھے تین میٹر اٹھا دیا گیا

اقدام کا مقصد غلاف کعبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیت اللہ کے دیدار کا شرف حاصل کرنے والے فرزندان توحید ویسے تو ہمہ وقت غلاف کعبہ شریف سے لپٹے بارگاہ ایزدی میں اپنی مناجات پیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن حج کے موقع پرغلاف کعبہ کو چومنے والےعقیدت مندوں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔


زائرین اور مطوفین کے چھونے اور رگڑ لگنے سے غلاف کعبہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ کچھ برسوں سے سعودی حکومت نے غلاف شریف کو گھسنے سے بچانے کے لیے اسے نچلی سمت سے ساڑھے تین میٹر اوپراٹھا دیا جاتا رہا ہے۔ اسی روایت اور ضرورت کے پیش نظر رواں سال موسم حج کی آمد کے موقع پر خانہ کعبہ کا غلاف ساڑھے تین میٹر اوپر اٹھا دیا گیا ہے۔

غلاف کا یہ زیریں حصہ سفید رنگ کے خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جسے خانہ کعبہ کی چاروں اطراف میں اس کے زیریں حصے کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف سازی کے امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد باجودہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہم ہر سال موسم کے حج کے دوران غلافہ کعبہ کو اس کی زیریں سمت سے ساڑھے تین میٹر اوپر اٹھا دیتے ہیں تا کہ حجاج کرام کی غلاف کے ساتھ مسلسل مس ہو کر اسے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ غلاف کعبہ کو اوپراٹھائے جانے کا مقصد صرف اس کی حفاظت کے لیے کیا جاتا ہے، اس کے پیچھے اور کوئی فلسفہ کار فرما نہیں ہے"۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر باجودہ کا کہنا تھا کہ بعض کمزور عقیدہ لوگ غلاف کعبہ کا کچھ حصہ کاٹ کر تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔ اس کے علاوہ مسلسل رگڑ لگنے سے بھی غلاف کا کپڑا خراب ہو جاتا ہے جس کے لیے انہوں نے حسب معمول اس سال بھی 47 میٹر بلند غلاف کعبہ کو ساڑھے تین میٹر اوپر اٹھا دیا ہے۔