.

یہودی رکن شوریٰ حسن روحانی سفر امریکا میں ہمرکاب

سیامک مرہ صدق ایران میں یہودی اقلیت کے اکلوتے نمائندہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے دورہ امریکا کی ایک خاص بات یہ سامنے آئی ہے کہ انہوں نے ایک یہودی رکن شوریٰ [پارلیمنٹ] سیامک مرہ صدق کو اپنا ہم سفر بنایا ہے۔

ایران میں اصلاح پسندوں کے مقرب سمجھے جانے والے فارسی نیوز پورٹل" خرداد" کی رپورٹ کے مطابق صدرجمہوریہ جب نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے روانہ ہوئے تو یہودی اقلیت کے نمائندہ سیامک صدق بھی ان کے ہمراہ تھے۔ خیال رہے کہ سیامک مرہ صدق ایران کی شورییٰ میں یہودی اقلیت کے اکلوتے نمائندہ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اصلاح پسند صدر روحانی کے ہمراہ یہودی رکن شوریٰ کی امریکا آمد کو سرکاری اور قدامت پسند میڈیا میں اچھی خاصی کوریج دی گئی ہے۔

"خرداد" کی رپورٹ کے مطابق یہودی رُکن شوریٰ کو ساتھ رکھنے کا مقصد عالمی برادری کے سامنے ایران کے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کے دعوے کو عملا ثابت کرنا ہے۔ ایران کے حوالے سے اس اقدام سے عالمی برادری میں مثبت پیغام جائے گا۔

واضح رہے کہ صدر حسن روحانی نے اقتدار سنھبالنے کے بعد ملک میں اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے ماضی کی نسبت زیادہ احسن اقدامات کی کوشش کی ہے۔ سیامک مرہ صادق کوامریکا کے دورے میں شرف ہمسفری بخشنا بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف بھی یہودیوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے عبرانی سال نو کے موقع پر پوری دنیا کے یہودیوں کو تہنیتی پیغام بھی بھیجا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہولوکاسٹ" کی مذمت کرنے والے جا چکے ہیں۔ وہ اس کی مذمت کرنے والوں میں شامل نہیں ہے۔ ان کا اشارہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب تھا جنہوں نے اپنے دور صدارت میں کئی مرتبہ ہولوکاسٹ کو یہودیوں کا من گھڑت دعویٰ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔