.

سوڈان:خرطوم اور دوسرے شہروں میں ہنگاموں کے بعد انٹرنیٹ بند

حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں اور ہنگاموں کے بعد ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی بند کردی گئی ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق خرطوم اور دوسرے شہروں میں حکومت کی جانب سے ایندھن پر دیے جانے والے زرتلافی کے خاتمے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان بلووں میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انٹرنیٹ کے متعدد صارفین نے العربیہ سے گفتگو میں اس کے بند ہونے کی شکایت کی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ سوڈانی مظاہرین تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے منگل کو خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان میں حکمراں جماعت کے ہیڈکوارٹرز کو نذرآتش کردیا تھا۔

مشتعل مظاہرین نے خرطوم میں متعدد کاروں اور پٹرول اسٹیشنوں کو نذرآتش کردیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسائے۔

قبل ازیں العربیہ کے نمائندے نے خرطوم سے اطلاع دی تھی کہ حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے دارالحکومت میں 30 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند کردیے ہیں۔

صدر عمرحسن البشیر کی حکومت نے گذشتہ سوموار کو معیشت میں اصلاحات کے پروگرام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دیاجانے والا زرتلافی واپس لے لیا تھا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف گذشتہ تین روز سے خرطوم اور دوسرے شہروں میں عوامی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران تشدد کے واقعات میں تین مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں،ان میں دو سوڈانی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں مارے گئے ہیں جبکہ پولیس نے اشک آور گیس کے ذریعے ہی ان مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کی ہے اور گولی چلانے سے گریز کیا ہے۔پولیس نے بیس مظاہرین کو بلووں کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

خرطوم میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں سوڈانیوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد کے استعمال سے گریز کریں۔