.

ہولوکاسٹ قابل مذمت ہے: روحانی ، یہ ایرانی صدر کی منافقت ہے: نیتن یاہو

ایرانی جوہری پروگرام پر حملہ خارج از امکان نہیں ہر وقت ممکن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایرانی صدر حسن روحانی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے منافقت سے بھری ہوئی باتوں کا مجموعہ قرار دیا ہے ۔

نیتن یاہو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی صدر نے اپنے ملک کی سابقہ پالیسی میں نرمی لاتے ہوئے اسرائیل کی مخالفت کو کم کیا ہے ۔ نیز امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

ایرانی صدر نے گزشتہ روز جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے اور انہوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے ہولوکاسٹ کو قابل مذمت قرار دیا۔ روحانی نے کہا کہ،" انسانیت کے خلاف کوئی بھی جرم خواہ وہ نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے ساتھ کیا جانے والا ہی کیوں نہ ہو، قابل مذمت ہے۔"

امریکی ٹی وی کے مطابق روحانی کا کہنا تھا کہ،"یہودیوں کے خلاف کی جانے والی ہر کارروائی کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ انسانی جان کا ہر ضیاع قابل مذمت امر ہے۔ چاہے کسی مسیحی کی جان ہو، یہودی کی یا مسلمان کی ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ہمارے لئے سب ایک جیسے ہیں۔"

جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ ان کا ملک کسی کے لئے خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں۔ مگر نیتن یاہو کے مطابق ان کو روحانی کی بات کا اعتبار نہیں ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ"جیسا کہ سوچا جا رہا تھا یہ ایک عجیب وغریب تقریر تھی جو کہ منافقت سے بھری ہوئی تھی۔

مقبوضہ بیت المقدس میں بدھ کے روز نیتن یاہو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ،"روحانی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اسی عرصے کے دوران ایرانی فوجیں شام میں بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔"

اسرائیلی وزیر اعظم نے نے الزام لگایا کہ روحانی خود دہشت گردی کی مذمت کررہے ہیں جبکہ ایرانی حکومت دنیا کے درجنوں ممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔

نتین یاہو کا کہنا ہے کہ "ایران کی یہی حکمت عملی ہے کہ وہ مذاکرات میں الجھا کر جوہری ہتھیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کا وقت لے لے گا اور یہ بات روحانی بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کو ایران کو ان باتوں سے نہیں بلکہ اس کے عمل سے پرکھنا ہو گا۔

انہوں خبردار کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پراسرائیلی فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اگلے ہفتے کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔