بیلجیئم: فرانسیسی ڈیزائنر کے جوتے کا اسلام مخالف اشتہار میں استعمال

سابق مس بیلجیئم عریاں ٹانگوں کے ساتھ انتہا پسند گروپ کے پوسٹر میں نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لگژری جوتے ڈیزائن کرنے والے فرانسیسی ڈیزائنر کرسٹین لوبوٹین بیلجیئم کے دائیں بازو کے ایک انتہا پسند گروپ کے خلاف عدالت میں جا پہچنے ہیں جو ان کے مشہور زمانہ ڈیزائن کے جوتے کو اسلام مخالف مہم کے لیے تیار کردہ اپنے پوسٹر میں استعمال کر رہا ہے۔

بیلجئیم میں مزعومہ اسلام کاری (اسلامائزیشن) کے خلاف خواتین کے گروپ فلیمش نے یہ پوسٹر تیار کیا ہے اور اس میں سابق مس بیلجئم نے عریاں ٹانگوں کے ساتھ سرخ رنگ کے تلوے والا لوبوٹینز کا جوتا پہن رکھا ہے۔

یہ پوسٹر کینیڈا کی انسانی حقوق کی علمبردار روسیا لیک کی ایک تصویر سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ تصویر جنوری میں منظرعام پر آئی تھی اور اس کو ''جج منٹس'' کا نام دیا گیا تھا۔اس میں مختلف سکرٹس کی رونمائی کی گئی تھی۔

بیلجیئم میں جوتے کے ساتھ بنائے گئے اس پوسٹر کا سلوگن ''لبرٹی یا اسلام'' ہے اورا س کے ساتھ اس انتہا پسند گروپ کا ویب ایڈریس بھی دیا گیا ہے۔بیلجیئم کی ایک ویب سائٹ بیلجا کی اطلاع کے مطابق اس پوسٹر میں نمودار ہونے والی ٹانگیں آنک وان ڈیرمیرش کی ہیں جو 1991ء میں مس بیلجیئم منتخب ہوئی تھیں۔اب وہ تارکین وطن کی مخالف دائیں بازو کی جماعت ولامس بیلانگ کی سینیٹر ہیں۔

پیرس سے تعلق رکھنے والے شو اسٹائلش لوبوٹین کا کہنا ہے کہ اس اشتہار سے ان کا امیج داغ دار ہوا ہے اور وہ اس کو فوری طور پر بند کرانا چاہتے ہیں۔انھوں نے بیلجیئم کی عدالت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔عدالت کا جمعہ کو ان کی درخواست پر فیصلہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ولامس بیلانگ پارٹی کو حالیہ برسوں کے دوران بیلجیئم میں ہونے والے انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور یہ انتہا پسند جماعت اب سیاسی میدان میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے اسلام مخالف اشتعال انگیز مہمیں چلاتی رہتی ہے۔ اس کو وہ ''بیلجیئم کی اسلامائزیشن'' مخالف مہم کا نام دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں