سوڈان: حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے، تین روز میں 140 ہلاکتیں

زر تلافی کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں حکومت کی جانب سے ایندھن پر زر تلافی (سب سڈی) کے خاتمے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ تین روز کے دوران تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو چالیس سے متجاوز کر گئی ہے۔

سوڈانی حزب اخٖتلاف نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کے یہ اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان میں ایک اسپتال کے ذریعے کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سوموار کو احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اکیس لاشیں لائی گئی ہیں۔ آٹھ افراد ملک کے دوسرے علاقوں میں مارے گئے ہیں۔ گذشتہ روز خرطوم میں پرتشدد ہنگاموں میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سوڈان کے وزیر اطلاعات احمد بلال نے العربیہ کو بتایا ہے کہ فوج کو گیس اسٹیشنوں، برقی تنصیبات اور نجی اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔ دارالحکومت خرطوم میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بعد صورت حال بہتر بتائی گئی ہے لیکن حکومت مخالف کارکنان نے سوشل میڈیا پر جمعہ کو احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق خرطوم اور دوسرے شہروں میں حکومت کی جانب سے ایندھن پر دیے جانے والے زرتلافی کے خاتمے کے خلاف سوموار سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔سوڈانی حکومت نے بدھ کو انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی اور صارفین نے العربیہ سے گفتگو میں اس کے بند ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن جمعرات کو انٹرنیٹ کو بحال کردیا گیا ہے۔

سوڈانی مظاہرین زرتلافی کے خاتمے کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے منگل کو خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان میں حکمراں جماعت کے ہیڈکوارٹرز کو نذرآتش کردیا تھا۔انھوں نے خرطوم میں وزارت سیاحت کی ایک عمارت کو بھی آگ لگادی ہے۔

سنہ 1989ء میں فوجی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے صدر عمرحسن البشیر کی حکومت کے خلاف یہ بدترین مظاہرے ہیں۔حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے دارالحکومت میں 30 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند کردیے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے خرطوم میں متعدد کاروں اور پٹرول اسٹیشنوں کو نذرآتش کردیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔انھوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسائے۔پولیس نے اشک آور گیس کے ذریعے ہی ان مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کی ہے اور گولی چلانے سے گریز کیا ہے۔

صدرعمر حسن البشیر کی حکومت نے گذشتہ سوموار کو معیشت میں اصلاحات کے پروگرام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دیاجانے والا زرتلافی واپس لے لیا تھا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

خرطوم میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں سوڈانیوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد کے استعمال سے گریز کریں۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تشدد زدہ علاقوں کی جانب نہیں جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں