واشنگٹن: بحریہ ہیڈکوارٹرز میں خونی کھیل کھیلنے والے کی ویڈیو جاری

ماضی میں تشدد پسندانہ رجحان کے باوجود قاتل کو سکیورٹی کلیرینس دینے پر سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) نے واشنگٹن میں بحریہ کے اڈے پر فائرنگ کرنے والے قاتل ایرون ایلکسس کی ویڈیو جاری کردی ہے اور یہ انکشاف کیا ہے کہ شوٹر اس واہمے کا شکار تھا کہ اس کو غیر مرئی مقناطیسی لہریں کنٹرول کر رہی ہیں۔

ایف بی آئی کے واشنگٹں فیلڈ آفس کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر ولیری پارلیو نے نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ویڈیو میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا جس سے یہ ظاہر ہوکہ چونتیس سالہ الیکسس 16 ستمبر کو واشنگٹن کے جنوب مغرب میں واقع نیوی یارڈ پر کسی کو نشانہ بنانے جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہمیں قاتل کی الیکٹرانک میڈیا پر متعلقہ گفتگو مل گئی ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس واہمے کا شکار تھا کہ اس کو گذشتہ تین ماہ سے برقی مقناطیسی لہروں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایلکسس کرائے کی نیلی ٹویوٹا کار کو صبح آٹھ بجے کے قریب چلا کر آرہا ہے۔اس کو وہ نیوی یارڈ کے پارکنگ گیراج میں کھڑے کرتا ہے۔اس کے بعد وہ نیول سی سسٹمز کمانڈ کی عمارت میں ایک دروازے کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔

اس مختصر ویڈیو میں ایلکسس کو ریمنگٹن شاٹ گن سے مسلح دیکھا جاسکتا ہے۔اس نے گہرے رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں۔وہ سیڑھیوں سے اترنے کے بعد کوریڈور کے ساتھ چل رہا ہے۔اس دوران ایک مرحلے پر وہ ایک کمرے کی جانب اپنی بندوق کو تان لیتا ہے لیکن گولی نہیں چلاتا۔

ایلکسس نے بحریہ کے اڈے پر اکیلے ہی فائرنگ کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ وہ ایک گھنٹے تک پولیس کا مقابلہ کرتا رہا تھا اور پھر عمارت کی تیسری منزل میں فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا لیکن اس واقعہ سے یہ سنجیدہ سوال پیدا ہوا ہے کہ وہ اس اہم فوجی تنصیب میں داخل ہونے کے لیے سکیورٹی کلئیرینس حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا تھا حالانکہ وہ بندوق کے غلط استعمال کی تاریخ رکھتا تھا۔

ایلکسس دواسپتالوں سے نیند نہ آنے کی بیماری کا بھی علاج کراتا رہا تھا۔اس نے رہوڈ آئلینڈ میں پولیس کو بتایا تھا کہ اس کو آوازیں سنائی دیتی ہیں اور ہوٹل کے کمرے کی دیواروں سے تھرتھراہٹ سنائی دیتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع اب فائرنگ کے اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کررہا ہے اور توقع ہے کہ اس ضمن میں دسمبر میں رپورٹ جاری کردی جائے گی۔قاتل ایلکسس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ؁ 2004ء میں بھی فائرنگ کی تھی اور سیاٹل میں بندوق سے کار کے ٹائر پھاڑ دیے تھے۔2007ء میں وہ امریکی بحریہ میں بھرتی ہوا تھا اور اس نے دس سال کی ''خفیہ''سکیورٹی کلیئرینس کے لیے بھی درخواست دائر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں