کشمیری مزاحمت کاروں کا حملہ، بھارتی کرنل سمیت 12 ہلاک

بھارت کیطرف سے ایک بار پھر بالواسطہ طور پر پاکستان پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے بھارتی زیر انتظام علاقے میں کشمیری مزاحمت کاروں کی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی فوج کے ایک کرنل سمیت آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں ۔ بھارتی حکام نے ان کارروائیوں کو پاکستانی علاقے سے مداخلت کاری کا نتیجہ تو نہیں کہا لیکن بھارتی اپوزیشن نے یہ ضرور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد من موہن سنگھ کو پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات منسوخ کر دینی چاہیے۔

دوسری جانب نیو یارک میں موجود بھارتی وزیر اعظم نے اس واقعے پر اپنے ردعمل میں پاکستان سے بات چیت کو نہ روکنے کا عندیہ دے کر بالواسطہ طور پر اس واقعے کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی ہے۔

واضح رہے کے دونوں ہمسایہ ملکوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ بھارت ایسے واقعات کی ذمہ داری فوری طور پر پاکستان پر جبکہ سرحد پار ہونے والے ہر واقعے کی ذمہ داری مذ ہبی انتہا پسندوں پر عائد کی جاتی ہے۔

متنازعہ ریاست جموں و کشمیرکے جس علاقے میں عید الفطر کے موقع پر ہندو مسلم فسادات شروع ہونے کے بعد کئی روز تک کرفیو نافذ رہا تھا ایک مرتبہ پھر بد امنی کی زد میں ہے۔

جمعرات کی صبح آٹھ بجے فوجی لباس میں ملبوس مسلح افراد نے بھارتی زیر انتظام علاقے کٹھوعہ کے ہیرا نگر پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا۔ حملے میں دستی بم اور خود کار اسلحہ استعمال کیا گیا، جسکے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار مارے گئے جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران تین شہری بھی مارے گئے ہیں۔

مزاحمت کاروں نے دوسری کارروائی سامبا سیکٹر میں کی۔ بھارتی ذرائع کے مطابق مسلح افراد ایک ٹرک قبضے میں لے کر سامبا فوجی کیمپ پر حملہ آور ہوئے۔ جہاں کئی گھنٹے تک گولیاں چلنے کی آواز سنائی دیتی رہی۔ بتایا گیا ہے کہ مزاحمت کار جنہیں بھارتی زبان میں شدت پسند کہا جاتا ہے تین کی تعداد میں آٹھ بجکر بائیس منٹ پر کیمپ میں داخل ہونے پر کامیاب ہو گئے۔

مزاحمت کاروں نے اس دوران ایک لیفٹینٹ کرنل سمیت متعدد اہلکاروں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فوج پر مزاحمت کاروں کا حملہ کئی گھنٹے جاری رہا۔

بعد ازاں بھارتی فوج ، سنٹرل ریزرو پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی مزید نفری موقع پر پہنچ گئی تاہم بھارتی فوج کوجانی نقصان کا سامنا رہا۔ بھارتی ذرائع کے مطابق علاقے میں فوجی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

واضح رہے پاکستان کی قیادت کے عالمی رہنماوں سے مذاکرات اور ملاقاتوں سے پہلے ایسے واقعات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ۱۹۹۰ کی دہائی کے اواخر میں امریکی صدر بھارت اور پاکستان کے دورے پر آئے تھے اور بھارت میں سکھوں کی ہلاکت کا وقعہ پیش آیا تھا ۔ اس کے بعد یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ہے.

آخری اطلاعات تک مجموعی طور پران دونوں واقعات میں کم از کم 12 بھارت کے سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس صوتحال کی وجہ سے جموں اور پٹھان کوٹ کے درمیان کی روڈ کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا گیا تھا ۔

شام چار بجے تک کی اطلاعات کے مطابق ابھی تک لڑائی جاری ہے جبکہ پاکستان نے بھارتی فوج کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں