نیروبی: حملہ آوروں نے اسلحہ شاپنگ مال میں چھپا رکھا تھا

حملے کی ریہرسل اور نقشوں کا مطالعہ صومالیہ میں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رواں ہفتے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک مصروف تجارتی مرکز میں دہشت گردی کے ہولناک حملے کی کچھ اہم تفصیلات امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی شائع ہوئی ہیں۔

امریکی اخبار"نیویارک ٹائمز" کے مطابق نیروبی کے "ویسٹ گیٹ" شاپنگ مال پرحملے سے قبل دہشت گردوں نے اس کی باریک بینی سے حکمت عملی تیار کی تھی۔ حملہ آوروں نے تجارتی مرکز کے نقشوں کا باریکی سے جائزہ لیا۔ پھرخفیہ ذرائع سے اسلحہ اور مشین گنیں شاپنگ مال میں لا کرچھپائی گئیں۔ بعد ازاں حملہ آوروں نے یہی اسلحہ استعمال کیا۔

رپورٹ کے مطابق نیروبی شاپنگ مال پرحملے کی مکمل تیاری اور ٹرینگ صومالیہ میں کی گئی۔ حملہ آوروں میں صومالیہ کی الشباب موومنٹ کےعلاوہ امریکی شہری اور انگریزی بولنے والے مغربی شدت پسند بھی بھرتی کیے گئے۔ صومالیہ میں دوران تربیت "ویسٹ گیٹ" شاپنگ سینٹر کے نقشوں کا مطالعہ اتنی باریکی سے کیا گیا کہ اس میں ہوا گذرنے کے راستوں کی بھی باقاعدہ نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق حملے سے قبل ایک بڑی مشین گن لا کراس تجارتی مرکز میں چھپائی گئی۔

بعد ازاں اس مشین گن کے ذریعے فائرنگ کرکے کینیا کے سیکیورٹی فورسز کو پسپا کیا گیا۔ شدت پسندوں کے ایک ذرائع نے بتایا کہ حملے کے دوران سپر مارکیٹ میں ان کے کئی حامی اور اسلحہ کے ذخائر بھی تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حملہ آوروں نے سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال بندوقیں اور ان کی وردیاں حاصل کر لی تھیں۔ حملے کے دوران جب عام لوگ وہاں سے فرار ہونے لگے توکچھ حملہ آوربھی فوجی وردیوں میں ان کے ساتھ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ماہرین حملے میں مغربی ملکوں کے عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کے شبہات کی چھان بین کررہے ہیں۔ حملہ آوروں کے فنگر پرنٹس کی مدد سے اس بات کا پتہ جلد ہی چلا لیا جائے گا۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز کینیا کے دارالحکومت کے مصروف تجارتی مرکز"ویسٹ گیٹ" میں دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری صومالیہ کی شدت پسند عسکری تنظیم الشباب موومنٹ نے قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں