رواں صدی میں درجہ حرارت میں 0.3 سے 4.8 ڈگری تک اضافہ متوقع

بنی نوع انسان عالمی حدت میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں:اقوام متحدہ پینل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے پینل نے قرار دیا ہے کہ بنی نوع انسان عالمی حدت میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں اور رواں صدی میں درجہ حرارت میں 0.3 سے 4.8 ڈگری تک اضافہ متوقع ہے۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام موسمیاتی تبدیلیوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) نے پیشین گوئی کی ہے کہ ؁ 2100ء تک سمندروں میں پانی کی سطح 26 سے 82 سینٹی میٹر تک (10.4 سے 32.8 انچ تک) بلند ہوجائے گی۔

اس پینل نے اپنے مطالعے کے یہ حاصلات اپنی تازہ رپورٹ کی سمری میں بیان کیے ہیں۔نوبل انعام یافتہ اس گروپ نے بنی نوع انسان ہی کو عالمی حدت میں اضافے کا سب سے بڑا ذمے دار قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ گذشتہ ساٹھ سال کے دوران گلوبل وارمنگ میں انسانوں نے پچاس فی صد سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔

آئی پی سی سی نے اپنی تاریخ کے پچیس سال کے عرصہ کے دوران چار جائزہ رپورٹس جاری کی ہیں اور یہ اس کی حتمی رپورٹ ہے۔اس نے اپنی ہررپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ عالمی حدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور موسمیاتی نظاموں میں تبدیلی کے نتیجے میں دنیا میں خشک سالی ،سیلاب اور طوفان رونما ہورہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے۔

پینل کی ؁ 2100ء کے بارے میں پیشین گوئیاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافے کے مطالعے اور ان رجحانات کے کمپیوٹر پر مبنی ماڈلوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔آج کوئلہ ،تیل اور گیس توانائی کی سپلائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اورانھی سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے خاص طور پر صنعتی ممالک میں عالمی حدت میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں