شامی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے اقوام متحدہ کی مجوزہ قرارداد پراتفاق

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی رپورٹ کے بعد آج رائے شماری کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق مجوزہ قرارداد پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور اس پر آج جمعہ کو رائے شماری کا امکان ہے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،روس اور چین کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں جمعرات کی رات بند کمرے کے اجلاس میں قرارداد کے مسودے پر اتفاق کیا ہے۔اگر یہ قرارداد منظور کرلی جاتی ہے تو شام میں گذشتہ ڈھائی سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ خانہ جنگی کا شکار ملک کو عالمی ادارے کی کسی قرارداد پرعمل درآمد کا پابند بنایا جائے گا۔

مجوزہ قرارداد میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے۔البتہ اگر وہ اس پر عمل درآمد میں ناکام رہتا ہے تو پھر اس کے خلاف فوجی کارروائی یا پابندیوں کی دھمکی نہیں دی گئی ہے۔مغربی ممالک روس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے بہت سے مطالبات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

امریکا،برطانیہ اور فرانس قرارداد کو اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت پیش کرنا چاہتے تھے۔اس کے تحت سلامتی کونسل شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے قرارداد کو بزور نافذ کرسکتی ہے اور وہ عدم نفاذ کی صورت میں شام کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کرسکتی یا اس پر پابندیاں عاید کرسکتی ہے لیکن روس کے اعتراض کے بعد باب سات کی یہ شق قرارداد سے حذف کردی گئی ہے۔البتہ اگر شام کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں ناکام رہتا ہے اور عالمی ادارے سے تعاون نہیں کرتا تو پھر اس کے خلاف مستقبل میں باب سات کے تحت ایک اور قرارداد پیش کی جائے گی اور اس کو روس مسترد کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ''برطانیہ ،فرانس ،امریکا،روس اور چین نے پابند اور قابل نفاذ قرارداد کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے''۔

اس سے پہلے امریکا اور روس کے درمیان اس مجوزہ قرارداد کے نفاذ کے طریق کار پر اختلاف رائے پایا جاتا تھا لیکن اب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر سمانتھا پاور نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سمجھوتے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ کو بھی دور کردیا گیا ہے۔

سمانتھا پاور نے ٹویٹر پر لکھا:''مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں اور ان سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ایک نئی قدر پیدا ہوگئی ہے''۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم امریکا اورروس کے درمیان 14 ستمبر کوجنیوا میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی کنٹرول میں دینے سے متعلق طے پائے معاہدے کو قبول کر لیتی ہے اور اس پر عمل درآمد کے طریق کار سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کردیتی ہے تو پھر مجوزہ قرارداد پر جمعہ کی رات سلامتی کونسل میں رائے شماری کا امکان ہے۔

یادرہے کہ روس اور چین ماضی میں اکتوبر 2011ء کے بعد تین مرتبہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ان دونوں ممالک نے بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے مجوزہ قرارداد سے اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں