تیونس: عیدالاضحیٰ کے روز مساجد میں ملک گیر ہڑتال کی کال

"عوام بھوکے مر رہے ہیں، تم کس عید کی بات کرتے ہو؟"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس کی سیکولر اپوزیشن نے اسلام پسند حکومت کی نیندیں پہلے ہی اچاٹ رکھی تھیں کہ اوپر سے ملک کی مذہبی جماعتیں بھی اپنی شکایات لے کرمیدان میں کود پڑی ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بدامنی، معاشی بدحالی اور سماجی ناہمواری سے تنگ مذہبی جماعتوں نے عیدالاضحی کے روز ملک بھرکی مساجد میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونس کی مذہبی تنظیموں کی نمائندہ "نیشنل یونین برائے مذہبی امور" نے عیدالاضحیٰ کے دن حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال کی کال دی ہے۔ یونین کے سرپرستِ اعلیٰ فاصل بن عاشور نے بتایا کہ انہوں نے آئمہ مساجد، خطباء اور علماء پر زور دیا ہے کہ وہ عیدالاضحیٰ کے دن اپنی تقریروں میں مذہبی حلقوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بات کریں۔ اس سلسلے میں یونین کی جانب سے ہڑتال کے لیے "تم کس عید کی بات کرتے ہو؟" کا سلوگن پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیونس میں مذہبی حلقے سماج کا ایک بڑا حصہ ہیں، جنہیں کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت مذہبی جماعتیں اپنے پیروکاروں کی ان گنت شکایات کو لے کرمیدان میں اترنا اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتی ہیں۔ ہمیں موجودہ اسلام پسند حکومت سے بھی گلہ ہے کہ وہ مذہبی اداروں سے وابستہ افراد کے اقتصادی اور سماجی مسائل حل نہیں کرسکی ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی اور سماجی اصلاحات کے تمام دعوے اور وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

نیشنل یونین کی جانب سے ہڑتال کی کال خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے احتجاج کے دیگر ذرائع بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر فاصل بن عاشور کا کہنا تھا کہ "ہماری تحریک خالصتاً غیر سیاسی ہے۔ ہمارے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ صرف علماء ہیں، کوئی سیاسی شخصیت ہماری پشت پر نہیں ہے۔ ہم ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہم حکومت پر واضح کر رہے ہیں اگرمعاشی، سماجی اور امن وامان کے حالات جوں کے توں رہے توعوام عید کی کون سی خوشی منائیں گے۔ اس لیے ہم نے اپنی ہڑتال کے لیے "تم کس عیدکی بات کرتے ہو؟" کا سلوگن چنا ہے۔

مساجد کا افراتفری میں استعمال تیونس کی نیشنل یونین کی جانب سے جاری ایک دوسرے بیان میں گذشتہ کچھ عرصے سے مساجد میں پیش آنے والے ہزاروں ناخوش گوار واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "کچھ عرصے کے دوران بدمعاش اور منکرین قانون عناصر کے ہاتھوں مساجد میں شریف النفس لوگوں پر1060 حملے کیے گئے ہیں۔ اسی دوران مساجد کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا چنانچہ مساجد میں سیاسی اور فرقہ وارانہ نوعیت کے 1300 خطبات ریکارڈ کیے گئے"۔

اخبار "الشروق" کی رپورٹ کے مطابق تیونس میں جنوری سنہ 2011ء کے انقلاب کے بعد علماء اور نمازیوں کی جانب سے 6000 شکایات درج کرائی گئیں۔ ان میں 930 شکایات میں کہا گیا ہے کہ علماء کے ساتھ مساجد میں غیرانسانی سلوک کیا گیا۔ نیشنل یونین کے مطابق اب بھی ملک بھر کی ہزاروں مساجد میں سے 216 مسجدیں حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔

قبل ازیں تیونس کے وزیر برائے مذہبی امور نور الدین الخادمی نے بتایا تھا کہ ما بعد انقلاب 1100 مساجد کو فرقہ وارانہ گروپوں سے واپس لے کرحکومتی تحویل میں دیا جا چکا ہے۔ ان کے علاوہ 2200 مساجد کے حوالے سے انتظامی نوعیت کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کا تدراک کیا جا رہا ہے۔ تیونس کی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکڑوں مساجد پر سلفی جہادی گروپوں کا قبضہ ہے جو مساجد کو عبادت کے بجائے جنگجو بھرتی کرنے اور انہیں دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں