.

اسرائیل اور فلسطین امن مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی دکھائیں

اقوام متحدہ، امریکا، روس اور یورپی یونین کے اہم سفیروں کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعات کو طے کرنے کے لیے اقوام متحدہ، امریکا، روس اور یورپی یونین کے متحرک مشترکہ گروپ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کا اظہار کریں، تا کہ اگلے سال کے دوران مسئلے کے کسی حتمی حل کی طرف بڑھا جا سکے۔

یہ موقف چار رکنی گروپ کے اعلی سفارتکاروں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک سائیڈ لائن میٹنگ کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں سامنے لایا گیا ہے کہ '' دونوں فریقوں یعنی اسرائیل اور فلسطین کو ہرممکن اقدامات کرنے چاہیں جن سے امریکی ثالثی میں پھر سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔

اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں فریق ہر اس اقدام اور کارروائی سے گریز کریں جو دوطرفہ اعتماد کو مجروح کرنے کے باعث بنیں یا جن سے امن مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ اس تناظر میں توقع ظاہر کی گئی کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کے قائدین کی طرف سے مثبت پیغامات کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں مد دے سکتے ہیں۔

واضح رہے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کئی برسوں کے تعطل کے بعد اسی سال کے وسط میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے سائیڈ لائن میٹنگ میں یہ تاثر دیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کی طرف سے امن مذاکرات کے حوالے سے تعمیری انداز اختیار کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے اجلاس کے بعد بتایا کہ امن مذاکرات کے ساتھ ہی ساتھ اقتصادی شعبے میں بھی دونوں طرف اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔

اس وقت فلسطینی معیشت کو دباو کا سامنا ہے اور رواں بجٹ میں فلسطین کو 350 ملین ڈالر کے اقتصادی خسارے کا سامنا ہے۔ یہ خسارہ ڈونر ملکوں اور اداروں کی مدد سے ختم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈونر ممالک کا ایک اہم اجلاس اسی ہفتے میں متوقع ہے۔