سلامتی کونسل: شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق قرارداد منظور

شام کو قرارداد کی خلاف ورزی اور عالمی ادارے سے تعاون نہ کرنے پرانتباہ پر اکتفا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے۔ اس میں شام کو انتباہ کیا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ نہ کرنے پر اس کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

قرارداد پر رائے شماری کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا کہ ''آج کی قرارداد سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے کو جلد سے جلد اور بھرپور شفاف اور قابل احتساب انداز میں یقینی بنائے گا''۔

مغربی ممالک کی اس قرارداد کو ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی جانب سے شام کی کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں تیز رفتار انداز میں شمولیت اور اس کے جملہ تقاضوں کو پورا کرنے سے متعلق رپورٹ کی منظوری کے فوری بعد جمعہ کی رات سلامتی کونسل میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ قرارداد امریکا اورروس کے درمیان 14 ستمبر کو جنیوا میں طے پائے سمجھوتے پر مبنی ہے۔اس سمجھوتے کے نتیجے میں شام پر امریکا کے ممکنہ فوجی حملے کو ٹالنے میں مدد ملی تھی اور شامی صدر بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔اس کنونشن کے تحت کیمیائی ہتھیار رکھنے اور ان کے استعمال پر پابندی عاید ہے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں جمعرات کی رات بند کمرے کے اجلاس میں قرارداد کے مسودے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ قرارداد شام کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں سلامتی کونسل کو ازخود طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ اس میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے۔ دوسری صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی یا پابندیوں کی دھمکی نہیں دی گئی اور صرف سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔

امریکا، برطانیہ اور فرانس شام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد کی منظوری چاہتے تھے۔ اس صورت میں سلامتی کونسل شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے قرارداد کو بزور نافذ کرسکتی تھی اور وہ عدم نفاذ کی صورت میں شام کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال یا پھر اس پر پابندیاں عاید کرسکتی تھی لیکن روس کے اعتراض کے بعد باب سات کی یہ شق قرارداد سے حذف کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بھی مغربی ممالک روس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے بہت سے مطالبات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔البتہ اگر شام کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں ناکام رہتا ہے اور عالمی ادارے سے تعاون نہیں کرتا تو پھر اس کے خلاف مستقبل میں باب سات کے تحت ایک اور قرارداد پیش کی جائے گی اور اس کو روس مسترد کرسکتا ہے۔

یادرہے کہ روس اور چین ماضی میں اکتوبر 2011ء کے بعد تین مرتبہ سلامتی کونسل میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ان دونوں ممالک نے بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں