سوڈانی سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ

السوڈانی' اور 'المہجر' نامی اخبارات ضبط، 'الوطن' کی اشاعت بند'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کی سیکیورٹی فورسز نے پیر تیل پر سبسڈی کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائر کھول دیا۔ یہی مظاہرین اب صدر عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوڈانی وزیر داخلہ نے عہد کیا ہے کہ وہ ان "وحشیوں" کو اب قانون کے دائرے میں لا کر دم لیں گے۔ ان کا یہ بیان سوڈانی حکام کی جانب سے 'السوڈانی' اور 'المہجر' نامی اخبارات کو قبضے میں لینے اور 'الوطن' اخبار کو اشاعت سے روکنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ سوڈانی حکام نے مساجد کے آئمہ کرام کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے وعظ میں ان "بربروں" کو نشانہ بنائیں۔ العربیہ کے مطابق سوڈانی کے کیمونسٹ لیڈر صدقی کلو کو بھی دارالحکومت کے ائیرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق جمعہ کے روز انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں نے دو دنوں میں 50 افراد کی ہلاکت پر سوڈان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین جاری رہیں اور سیکیورٹی فورسز ان مظاہروں میں عوام کا ساتھ دیں۔

افریقن سنٹر برائے انصاف اور امن اور لندن میں قائم بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی نے کہا ہے کہ منگل اور بدھ کے روز میں ہلاک ہونے والے 50 افراد کو سر اور چھاتی پر گولیاں ماری گئی ہیں۔ اے ایف پی نے دونوں تنظیموں کے حوالے بتایا کہ"مقامی ذرائع اور کارکنوں نے بتایا ہے ہلاکتوں کی تعداد سو سے زائد ہے۔"

انہوں نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لئے جانے کی اطلاعات کے بارے میں بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکام سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان محروسین کو تشدد کا نشانہ نہ بنائے جائے اور ان سے برا سلوک نہ کیا جائے۔

مظاہروں سب سے پہلے پیر کے روز خرطوم کے جنوب میں گیزیرہ صوبے کے علاقے واد مدنی میں شروع ہوئے جہاں سب سے پہلے شخص کی جان گئی اور اس کے بعد یہ مظاہرے جنوبی دارفر کے دارالحکومت نیالا تک پھیل گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں