عمر البشیر کو امریکی ویزا سے انکار، یو این چارٹر کے خلاف؟

امریکی دفتر خارجہ نے سوڈانی وزیر خارجہ کے الزام کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے وزیر خارجہ علی کارتی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے سوڈان کے صدر کو ویزا نہ دے کر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکا ہے، جو کہ 1946 کے اقوام متحدہ کے ایڈمنسٹیرشن کے معاہدے کے علاوہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ شکایت سوڈانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کی ہے۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے اس امرکا انکا رکیا ہے کہ امریکا کی طرف سے سوڈانی صدر کی ویزا درخواست مسترد کی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق اس ویزا درخواست پر ابھی غور جاری ہے۔

واضح رہے عمرالبشیر پر دارفور میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے الزام ہے اور وہ اس سلسلے میں عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ہیں، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سوڈان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

حالیہ دنوں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے صدر عمر البشیر کی طرف سے امریکی ویزے کی درخواست آئی تو امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس درخواست کی موصولی کا اعلان کیا تھا۔ مگر صدرعمر کو ویزا دینے یا نہ دینے کا دوٹوک ذکر کیے بغیر یہ کہا تھا کہ سوڈانی صدر کو جنرل اسمبلی میں آنے سے پہلے عالمی عدالت انصاف سے ہو کر آنا ہو گا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ میں سوڈان کے سفیر نے بھی سیکرٹری جنرل بان کی مون سے اپیل کی ہے کہ کے تمام رکن ممالک کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ سوڈانی سفیر کے مطابق سب جانتے ہیں کہ عمر البشیر نے اپنے ملک سے خانہ جنگی ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے کس قدر کوششیں کی تھیں۔

دلچسپ بات ہے جب یہ معاملہ زیر بحث ہے سوڈان میں ایک مرتبہ پھر تشددد کے واقعات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جن میں اب تک درجنوں افراد ہلاک، جبکہ سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں