ہزاروں مظاہرین صدر عمرالبشیر کیخلاف سڑکوں پر آ گئے

سوڈانی صدر کو بیک وقت اپوزیشن اور امریکی مخالفت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اپوزیشن کے احتجاج سے پھوٹنے والے مظاہروں میں مزید شدت آ گئی ہے اور تقریبا تین ہزار مظاہرین ہفتے کے روز سوڈان کے صدر عمر البشیر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خرطوم کی گلیوں میں نکل آئے ہیں۔

صدر عمر البشیر کو ان حالات میں جنرل اسمبلی کے لیے امریکی ویزا مل بھی گیا تو ان کے لیے اپنے ملک سے نکلنا مشکل ہو سکتا ہے، اور اگر امریکا پہنچ گئے تو مشکلات کا ایک نیا سلسلہ سامنے ہو گا۔

سوڈان میں حالیہ بدامنی کی لہر چھ روز قبل شروع ہوئی تھی، تاہم سوڈان کے وزیر داخلہ کی طرف سے مظاہرین کے خلاف سخت زبان اور آہنی ہاتھ استعمال کرنے کے بعد ان مظاہرین کا اتنی بڑی تعداد میں باہر آ جانا صورت حال کے مزید سنگین ہونے کا اظہار ہے۔ اس سے پہلے محض چار پانچ دنوں میں اپوزیشن کے مطابق 140 جبکہ حکومت کے بقول 33 افراد مارے جا چکے ہیں۔

سوڈانی صدر جنہیں ملک کے اندر اس وقت سخت مزاحمت کا سامنا ہے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی ویزا جاری نہ ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکنے کے علاوہ عالمی سطح پر عالمی طاقتوں کے غضب کا بھی نشانہ ہیں۔ ایک روز قبل جمعہ کی شام سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے مشرقی ضلع میں پانچ ہزار مظاہرین سڑکوں پر جمع ہو کر صدر عمر البشیر کی حکومت کو چیلنج کر رہے تھے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو ہزار مرد و خواتین اور نوجوان ہفتہ کے روز صدر قاتل اور آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔ دوسری جانب حکومت نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر سخت قدغنیں عائد کر دی ہیں، تاکہ اپوزیشن کی اس تحریک کو عوام میں پذیرائی نہ مل سکے

مقبول خبریں اہم خبریں