.

روحانی ۔ اوباما ٹیلیفونک رابطہ: ایرانی وزیر خارجہ کی پارلیمنٹ میں طلبی

فریقین کا رابطے میں پہل کا ایک دوسرے پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تین عشروں بعد امریکا اور ایران کے صدور کے درمیان پہلی ٹیلیفونک بات چیت سے ایران کے مقتدرحلقوں میں ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] نے وزیرخارجہ جواد ظریف کو صدر حسن روحانی اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا اہتمام کرانے کی پاداش میں وضاحت کی خاطر طلب کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ کمیٹی کی جانب سے وزیر خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے موقع پر واشنگٹن میں ایرانی صدر کی اپنے امریکی ہم منصب سے ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت کی تفصیلات اور اس کی وجوہات کے بارے میں بریفنگ دیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی میں پیش ہو کر صدر حسن روحانی اور باراک اوباما کے درمیان ہوئی بات چیت کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران ہوا تھا۔ دونوں رہ نماؤں نے طویل عرصے بعد ہونے والی اس ٹیلیفونک بات چیت کی تصدیق کی ہے۔ خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے "ٹویٹر" اکاؤنٹ پرمختصر ٹویٹ میں بتایا کہ ان کی امریکی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے۔ ایرانی صدر جنرل اسمبلی کے طویل اجلاس کے بعد گذشتہ روز وطن واپس پہنبچے تھے جہاں تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کے حامی اور مخالفین نے مظاہروں کا اہتمام کررکھا تھا۔

حسن روحانی کے حامیوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ان کی حمایت میں نعرے درج تھے جبکہ مخالفین امریکا مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے ہاتھوں میں اٹھائے بینروں اور پلےکارڈز پر صدر روحانی کی باراک اوباما کے ساتھ ہوئی ٹیلیفونک بات چیت کی مذمت پر مبنی نعرے تحریر کر رکھے تھے۔ سیاسی مخالفین اور شدت پسندوں نے صدر روحانی کی گاڑی کو ہوائی اڈے سے باہر نکلنے سے روک دیا تاہم موقع پر موجود پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص نے ڈاکٹر حسن روحانی پر جوتا بھی اچھال دیا تھا۔

ادھر امریکی قومی سلامتی کی خصوصی خاتون مشیرہ سوزان رائس کا کہنا ہے کہ حسن روحانی اور صدر باراک اوباما کے درمیان رابطے کے لیے پہل ایرانی حکام کی جانب سے کی گئی تھی، صدر اوباما نے اسے بادل نخواستہ قبول کرلیا تھا، جبکہ تہران واپسی کےبعد ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ رابطے کے لیے آغاز امریکیوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔

مسز رائس نے امریکی ٹی وی "سی این این" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد نے رابطہ کیا اور ہمیں بتایا گیا کہ صدر حسن روحانی باراک اوباما سے ٹیلیفون پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ اطلاع حیران کن اور ناقابل یقین تھی، ہم نے فوری طور پر دونوں صدور کے درمیان رابطے کا انتظام کیا، جس کے بعد دونوں رہ نماؤں میں مختصر بات چیت ہوئی"۔

ایرانی صدر نے امریکا سے واپسی پر تہران ہوائی ڈے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ" امریکیوں نے مجھ سے اس وقت رابطہ کیا جب میں نیویارک کے ہوائی اڈے کی جانب جا رہا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ صدر امریکا باراک اوباما مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اجازت دے دی، پھر ہمارے درمیان چند منٹ کی گفتگو ہوئی"۔ امریکی قومی سلامتی کی عہدیدار سوزان رائس کا کہنا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان 15 منٹ ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی صدر نے فارسی میں گفتگو کی۔ مکالمے دوران مترجم حضرات کی بھی مدد لی گئی تھی۔