.

سعودی نژاد دوشیزہ کے خلاف امریکا میں بنک لوٹنے کا مقدمہ درج

ملزمہ رانیہ الھذیلی 10 ستمبر سے امریکا میں زیر حراست ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں تین ہفتوں کے دوران پانچ بنک لوٹنے کے الزام میں زیرحراست سعودی نژاد دوشیزہ رانیہ الھذیلی کے خلاف مقدمہ چلانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اسے کل باضابطہ طورپر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

امریکا اور سعودی عرب کی دہری شہریت رکھنے والی 23 سالہ رانیہ ھذیلی کو امریکی پولیس نے 10 ستمبر کو حراست میں لیا تھا۔ اس پر تین ہفتوں کے دوران امریکا میں پانچ بنک ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مبینہ خاتون ڈکیت رانیہ کو کل سوموار کے روز سینٹ پال کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اسے امریکی تحقیقاتی ادارے"ایف بی آئی" اور پولیس نے مشترکہ کارروائی میں دس ستمبر کو ریاست 'مینیسوٹا کے شہر "روز ویل" سے حراست میں لیا تھا۔ یہ خاتون سنہ 2008ء کے بعد سے اسی شہر میں مقیم تھیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو جلی سرخیوں کے ساتھ نمایاں کیا ہے اور بتایا کہ رانیہ نے بنک لوٹنے کے بعد اپنی 23 ویں سالگرہ منا رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل روز ویل شہر کی فیڈرل کورٹ کی ماتحت عدالت نے بھی رانیہ کے مقدمہ کی مختصرسماعت کی تھی۔ ملزمہ نے عدالت کے سامنے بنک ڈکیتی کی چار وارداتوں کا اعتراف کیا تاہم "ایف بی آئی" حکام نے اس کے اعترافات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر پانچ بنک ڈکیتوں کا شبہ ہے۔

ملزمہ رانیہ الھذیلی نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت سے ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے اس کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رانیہ نے 15 اور 23 اگست کو دو بنک لوٹنے کے بعد یکم، پانچ اور 10 ستمبر کو بھی بنک ڈکیتی کی وارداتیں کی تھیں، جس پر اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق رانیہ نے چار بنک ڈکیتیوں کا اعتراف کیا ہے۔

مقامی اخبار"اسٹار ٹرائیبیون" کی رپورٹ کے مطابق عدالت کو شبہ ہے کہ اگر ملزمہ کو رہا کیا گیا تو وہ سعودی عرب فرار ہوسکتی ہے۔