.

سوڈان : حکمران جماعت کے اصلاح پسند بھی حکومتی اقدامات کیخلاف

حکومتی اقدامات غیر اسلامی ہیں، ہلاکتوں کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمران جماعت میں موجود اصلاح پسندوں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کو اسلام سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور اور اس کی مخالفت کرنے والوں کَیخلاف حکومتی طاقت کا استعمال رحم اور انصاف سے لگا نہیں کھاتا۔ یہ نہ صرف اسلام سے ہٹی ہوئی بات ہے بلکہ پرامن اظہار رائے کے مسلمہ اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

سوڈان کی حکمران جماعت کے 31 نمایاں اصلاح پسندوں نے اس امر کا اظہار صدر عمر البشیر کے نام ایک کھلے خط میں کیا ہے۔

خط پر سابق صدارتی مشیر غازی صلاح الدین کے دستخط نمایاں ہیں۔ جبکہ دیگر اصلاح پسندوں میں سابق فوجی افسر بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمد ابراہیم کے دستخط بھی شامل ہیں۔ جنہیں موجودہ رجیم کے خلاف بغاوت کی سازش کرنے پر ابھی پچھلے ہی سال پانچ سال کی سزائے قید مل چکی ہے، لیکن بعد ازاں صدر نے انہیں اور ان کے ساتھ اس سازش میں شریک تمام ملزمان کو عام معافی دے دی تھی۔

اس خط کے لکھنے والوں میں سابق پولیس افسران اور سابق فوجی افسران کے علاوہ بعض وہ شخصیات بھی شامل ہیں جنہوں نے 1989 میں موجودہ صدر کو اقتدار دلانے میں اہم کردار اد کیا تھا۔ جبکہ بعض ممبران پارلیمنٹ اور سابق وزراء بھی اس خط کا حصہ ہیں۔

غازی صلاح الدین نے اپنا یہ خط اپنی فیس بک آئی ڈی پر رکھا ہے۔ اس خط میں عمرالبشیر کی جماعت کے اقتدار آنے کے وقت کے وعدوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ'' اسلام نافذ کیا جائے گا'' لیکن خط میں کہا گیا ہے کہ شرعی اقدار انسانی زندگی کو محفوظ بنانے والی ہیں نہ کہ عوام کو ہلاکت میں ڈالنے والی۔

حکومت کی طرف سے قیمتوں میں بڑھاوے کا تازہ پیکج شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ اس پیکج کا اطلاق پارلیمنٹ سے بھی بالا بالا کیا گیا ہے۔ اسی طرح شہریوں کو پر امن انداز میں اس پیکج کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا ہے۔