.

عراقی کردستان میں اپوزیشن جماعت دوسری بڑی جماعت بن گئی

حکمران اتحاد کیلئے اسے نظر انداز نہیں کر سکے گا، کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردستان میں میں 21 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپوزیشن جماعت دوسری بڑی پارلیمانی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آگئی ہے ۔ پچھلی حکومتی مدت میں مخلوط حکومت بنانے والی دونوں جماعتوں کے لیے ایک بڑی اپوزیشن جماعت کی موجودگی بڑا سیاسی چیلنج ہو گی ۔ اسلام پسند جماعت نے چوتھی پوزیشن حاصل کر لی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کردستان کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعت گوران جس کا نعرہ تبدیلی ہے، سب سے بڑی جماعت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے حاصل کردہ 719004 ووٹوں کے مقابلے میں 446095 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ اس الیکشن میں موجودہ مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے 323827 ووٹ لیکر تیسری بڑی جماعت کی پوزیشن حاصل کی ہے۔

سابقہ انتخابات میں مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کی مجموعی نشستیں ایک سو گیارہ میں سے انسٹھ رہی تھیں۔ تاہم دوسری جماعت گوران موجودہ حکمران جماعتوں کے ساتھ 1990 میں خانہ جنگی میں مخالف فریق رہی ہے اب اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ کیونکہ اس جماعت نے کرپشن اور حکومتی معاملات میں عدم شفافیت کے خلاف عوام کی حمایت حاصل کی ہے۔ اس لیے اب اسے نظرانداز کرنا مشکل ہو گا ۔

اس سے پہلے 2009 کے عام انتخابات کے دوران موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے ایک ہی نشان پر حصہ لیا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان ووٹوں کی بنیاد پر کس جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی ۔

انتخابات کے بعد عراقی کردوں کے لیے بھی ایک حساس صورتحال بن گئی ہے۔ اگر ترکی کو تیل برآمد کرنے کا آخری مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ اس علاقے کو معاشی حوالے سے مضبوط کرنے والی بات ہو گی۔ لیکن انتخاب ووٹوں کے اعتبار سے دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دونوں جماعتوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔

جبکہ پیٹریاٹک یونین آف کردستان جس کے سربراہ جلال طالبانی عراق کے صدر بھی ہیں ان دنوں بغرض علاج ملک سے باہر ہیں۔ اس وجہ سے بعض اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔