.

یہودی فاؤنڈیشن حملہ کیس: ایران تحقیقات کے لیے ارجنٹائن سے تعاون پر تیار

"سابق ایرانی صدر اور وزیر دفاع ارجنٹائنی عدالت کو مطلوب ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بیس سال قبل ایک یہودی ادارے پر ہونے والے خونریز حملے کی تحقیقات کے لیے پہلی مرتبہ ارجنٹائن کی حکومت سے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہودی فاؤنڈیشن پر حملے کا واقعہ جولائی سنہ 1994ء کو ارجنٹائن کے دارالحکومت بوینس آئریس میں پیش آیا تھا جس میں 85 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ارجنٹائن حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے بعد الزام عائد کیا تھا کہ خونریز کارروائی میں ایران ملوث ہے، جس کے بعد ارجنٹائن کی ایک عدالت نے سابق ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور سابق وزیر دفاع احمدی وحیدی سمیت آٹھ افراد کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق ایران اور ارجنٹائن کے درمیان اس کارروائی میں تحقیقات بارے باہمی تعاون کا اعلان پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ ارجنٹائن کے ایک سفارتی ذریعے نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارجنٹائنی وزیرخارجہ ہیکٹور ٹیمرمین نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کی جس میں سنہ 1994ء کے بعد سے تعطل کا شکار اس قضیے کے حل میں ایک دوسرے کی مدد پر اتفاق کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ملک یہودی فاؤنڈیشن پر حملے کے حوالے سے خفیہ دستاویزات کا بھی تبادلہ کریں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے اعلان کے علی الرغم دو اہم نکات ابھی تک غیر واضح ہیں۔ اول یہ کہ ارجنٹائن نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں کوئی ایرانی یا ارجنٹائنی باشندہ شامل نہیں تھا۔ دوم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا تفتیش کار ان آٹھ مشتبہ حملہ آوروں سے پوچھ تاچھ کے لیے کب تہران پہنچیں گے۔ کیا ایرانی حکومت انہیں سابق اہم عہدیداروں سے تفتیش کی اجازت دے گی۔