.

ایران نے سیٹلائیٹ ٹی وی ڈشوں پر ٹینک چلا دیئے

اقدام کا مقصد شہریوں کو قومی نشریاتی چینل دیکھنے پر مجبور کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے غیرملکی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات کا ذریعہ بننے والے ڈش اینٹینا اور دیگر تمام آلات تلف کرنے کی ایک غیرمعمولی مہم شروع کی ہے۔ پاسداران انقلاب کی نگرانی میں جاری اس مہم میں جنوبی شہر شیراز میں "ڈش پلیٹوں" اور دیگر آلات کے خلاف آپریشن کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے شیراز میں گذشتہ کئی روز سے لوگوں کی گھروں کی چھتوں پر لگائے گئے ڈش انٹینوں کو قبضے میں لینے کا عمل شروع کر رکھا تھا۔ گذشتہ روز قبضے میں لیے گئے تمام آلات کو سڑکوں پر ڈال کران پر بلڈوزر اورٹینک چڑھا دیے گئے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی حکام نے پہلے ڈش اینٹینا میں استعمال ہونے والی پلیٹوں اور دیگر تمام آلات کو سڑکوں پر پھینکا، جس کے بعد بھاری مشینیں اور ٹینک نمودار ہوئے جنہیں ان آلات پر چڑھا دیا گیا۔ اس موقع پر حکومت کے حامیوں اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے غیرملکی چینل دیکھنے والوں کے خلاف نعرے بھی لگائے اور ڈش پلیٹں اورآلات کی تلفی کا سلسلہ جاری رکھنے کی دھمکی دی۔

بعد ازاں ضلع "فارس" میں پاسداران انقلاب اور حکومتی عہدیداروں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ڈش پلیٹوں اور دیگر آلات کی مسماری کا مقصد عوام کو قومی نشریاتی اداروں سے مربوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی ٹی وی چینل عوام میں اشتعال اور بے راہ روی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق تباہ کیے گئے ٹی وی انٹینوں کی پلیٹوں پر عوام کو دکھانے کے لیے پاسداران انقلاب نے اپنی مرضی کی عبارتیں بھی لکھ رکھی تھیں۔ "غیرملکی فلمیں اور ڈرامے غیرت اور شرم و حیاء کا جنازہ نکال دیتے ہیں" کا جملہ بیشتر پلیٹوں پر لکھا دیکھا جا سکتا تھا۔ گوکہ اس نوعیت کے آلات اور ڈش انٹینوں کی خریدو فروخت پر سرکاری سطح پر پابندی ہے۔ اس پابندی کے علی الرغم غیراعلانیہ طور پر بڑے پیمانے پر پورے ملک میں انہیں خریدا اور فروخت بھی کیا جا رہا ہے۔ خریداروں میں صرف عوام الناس ہی نہیں بلکہ تہران حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیدار اور پاسداران انقلاب کے افسران بالا بھی شامل ہوتے ہیں۔

ڈش کے آلات کی مسماری کی مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب موجودہ اصلاح پسند صدر حسن روحانی اپنے مختلف انٹرویوز میں شہریوں کو معلومات کےحصول میں ہرممکن آزادی فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔