.

ترکی: عوامی مقامات پر خواتین کو سکارف اوڑھنے کی اجازت

حقوق بحالی پیکج کے تحت کرد زبان میں تعلیم پر پابندی بھی ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے پورے ملک میں عوامی مقامات خواتین کے سروں پر سکارف اوڑھنے کی ممانعت ختم کر دی ہے۔ بنیادی حقوق پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے پیکج کا اعلان طیب ایردوآن نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔

اعلان کے مطابق کرد اقلیت کے ان حقوق کو بھی بحال کردیا ہے جو ایک طویل عرصے سے کرد آبادی سے چھین لیے گئے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کرد زبان میں اب نجی تعلیمی اداروں تعلیم دینے کی بھی اجازت ہو گی۔

طیب ایردوان نے ملک میں موجود اقلیت کردوں کے ساتھ امن مذاکرات کیلیے جمہوری اصلاحات کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایسے قوانین جن میں کردستان کی حامی جماعتوں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے پارلیمان میں داخلے کی پابندی تھی وہ بھی ختم کی جارہی ہے۔ اب کرد زبان بھی نجی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جائے گی۔

طیب ایردوآن کا کہنا تھا '' ترکی کے عوام کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ اور ایک اہم مرحلہ ہے۔''

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے علاقے جن کے نام کردوں کے ناموں سے منسوب تھے انہیں بحال کیا جائے گا اور کرد حروف تہجی اور رسم الخط پرعائد پابندی بھی اٹھائی جا رہی ہے۔

ملک میں ایسی جمہوری اصلاحات کا نفاذ کیا جائے گا جس سے ملک میں موجود اقلیتی گروہوں بالخصوص کرد جماعتوں کے ساتھ امن مذاکرات کیے جائیں گے اور کرد جماعت ۔ پی کے کے۔ سے پابندی اٹھا لی جائیگی.