.

امریکی بجٹ کی عدم منظوری:وفاقی اداروں کو بند کرنے کا حکم

کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز میں صحت عامہ کے قانون پر اختلافات برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی اور حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کے درمیان بجٹ پر اختلافات ختم نہیں ہوسکے جس کے نتیجے میں بجٹ کی مقررہ وقت میں عدم منظوری پر وائٹ ہاؤس نے وفاقی اداروں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے انتظامی اور بجٹ دفتر کے ڈائریکٹر سلویا میتھیوز برویل نے خبررساں ایجنسیوں کو جاری کردہ میمو میں کہا ہے کہ ''وفاقی ایجنسیاں اب فنڈز کی عدم دستیابی کے بعد بتدریج بندش کے حکم پر عمل پیرا ہوں گی''۔

برویل نے کانگریس پر زوردیا ہے کہ وہ مالی سال کی باقی مدت کے لیے بجٹ کی جلد سے جلد منظوری دے۔صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے کانگریس میں ڈیمو کریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان شدید محاذ آرائی کے بعد نصف شب سے صرف دس منٹ قبل وفاقی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق ارکان کانگریس کے درمیان مالی سال کے اختتام سے قبل صدر براک اوباما کے صحت عامہ کے قانون کو بجٹ دستاویز سے منسلک کرنے پر تند وتیز دلائل کا تبادلہ ہوا تھا۔صدر اوباما نے ری پبلکنز پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنے انتہا پسندانہ سیاسی مطالبات کے لیے امریکا کو بھتے پر چلانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین نے ان کی جماعت پر کبرونخوت کا رویہ اپنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکی صدر نے وفاقی اداروں کی بندش کے فیصلے کے اعلان کے بعد ایک نشری بیان میں ری پبلکنز ارکان کو مخاطب ہوکر کہا کہ ''آپ کو جو کام کسی بھی طرح کرنا چاہیے،اس کو آپ بھتہ لے کر کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔انھوں نے اعلان کیا کہ بجٹ کی عدم منظوری کے باوجود مسلح افواج کو فنڈز کی فراہمی جاری رہے گی۔

وائٹ ہاؤس کے فیصلے کے تحت وفاقی اداروں کی بندش سے قریباً آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین کو گھروں کو بھیج دیا جائے گا،بعض سرکاری خدمات کا خاتمہ کردیا جائے گا اور مجسمٔہ آزادی اور قومی پارکوں جیسی ہادگاروں کو بند کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا میں ؁ 1996ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی اداروں کو بند( شٹ ڈاؤن) کیا جارہا ہے۔سینیٹ میں اکثریتی لیڈر ہیری ریڈ نے اس کو ''امریکا کے لیے ایک غیر ضروری دھچکا قراردیا ہے''۔