.

جان کیری کا سوڈانی وزیر سے ملاقات میں کریک ڈاؤن پر تنقید سے گریز

سوڈان اورجنوبی سوڈان کے درمیان امن اوردارفور میں جاری تنازعے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں اپنے سوڈانی ہم منصب علی قرطی سے ملاقات کی ہے لیکن اس میں انھوں نے سوڈان میں حال ہی میں سرکاری فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر کڑی امریکی تنقید کا اعادہ نہیں کیا ہے۔

سوڈان میں حکومت کی جانب سے زرتلافی واپس لیے جانے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 60 فی صد تک اضافے کے خلاف 23 ستمبر سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور سوڈانی صدر کو اپنے 24 سالہ دورحکمرانی میں شدید بحران کا سامنا ہے۔

مظاہرین پر فائرنگ،جھڑپوں اور کریک ڈاؤن میں سوڈانی حکام نے چونتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم پچاس بتارہی ہیں جبکہ ایک غیرملکی سفارت کار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دوسو کے لگ بھگ ہے۔ان میں زیادہ تر دارالحکومت خرطوم کے علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مارے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے گذشتہ جمعہ کو سوڈانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی اور اسے جابرانہ اور غیرمتناسب قراردیا تھا لیکن سوموار کو جان کیری کی علی قرطی سے ملاقات کے حوالے سے ساکی نے کہا کہ ''کریک ڈاؤن اس کا موضوع ہی نہیں تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''دونوں وزرائے خارجہ نے سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان امن کی اہمیت ،دارفور ،بلیونیل اور جنوبی کردوفان میں جاری تنازعات کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے زیادہ سےزیادہ رسائی دینے کی ضرورت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا''۔

جین ساکی کے بہ قول یہ کوئی طویل ملاقات نہیں تھی۔انھوں نے مختلف ایشوز پر بات چیت کی ہے اور سوڈانی صدر عمرحسن البشیر کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے کی درخواست کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا لیکن ترجمان نے اس حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی اور معاملے کو خفیہ قرار دے کر اس بات کی تصدیق سے انکار کردیا کہ امریکا نے صدرعمرالبشیر کو ویزا جاری کردیا تھا یا نہیں۔

علی قرطی نے گذشتہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکا پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے صدر بشیر کو ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس طرح اس نے اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمے داریوں کی خلاف ورزی کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا نے اقوام متحدہ کے منشور میں وضع کردہ اصولوں اور مقاصد کی سنگین خلاف ورزی کی ہے''۔سوڈانی وزیر خارجہ نے صدر عمرالبشیر کی جگہ جنرل اسمبلی میں تقریر کی تھی۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ سوڈانی صدر اپنے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات کے تحت جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کی وجہ سے امریکا نہیں گئے یا انھیں امریکی ویزا ہی جاری نہیں کیا گیا تھا۔