.

ناپسندیدہ سرگرمیوں کے الزام میں تین امریکی سفارت کار وینزویلا بدر

باراک اوباما کے ردعمل کی پرواہ نہیں: صدر نکولس مادورو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا نے اپنے ہاں تعینات امریکا کے ایک سینیئر عہدیدار سمیت تین سفارت کاروں کو "تخریب کاری کو ہوا دینے اور اپوزیشن کے ساتھ گٹھ جوڑ" کے الزام میں ملک بدر کر دیا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا کہنا ہے کہ "ہمیں سفارت کاروں کی ملک بدری پر صدر باراک اوباما اور ان کی حکومت کے ردعمل میں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔"

برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق امریکا مخالف سوشلسٹ ریاست کے نکولس مادورو نے اپنے ایک بیان میں امریکی سفارت کارکی ملک بدری کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایک سینیئر ڈپلومیٹ کیلی کیڈرلنگ سمیت ڈیوڈ مو اور الزبتھ ہوفمین ملک میں تخریب کاری کو ہوا دینے اور اپوزیشن کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے حکومت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں، جس پرانہیں ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ واشنگٹن اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی طویل مدت سے چلی آ رہی ہے۔ سابق آنجہانی صدر ہوگوشاویز کی وفات کے بعد رواں سال صدر منتخب ہونے والے نکولس مادورو کے بعد دو طرفہ کشیدگی میں کمی توقع کی جا رہی تھی لیکن انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے پیشرو کا لب ولہجہ اختیار کیا۔ سفارت کاروں کی ملک بدری کا واقعہ دو طرفہ کشیدگی اور سرد جنگ کے تسلسل کی ایک نئی کڑی ہے۔

صدر نکولس مادورو کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پچھلے چند ماہ سے تین امریکی سفارت کاروں کی منفی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ انہیں متعدد مرتبہ وارنگ بھی دی گئی مگر وہ باز نہیں آئے جس کے بعد انہیں اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندرملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں نکولس مادورو نے کہا کہ امریکی سفارت کار گذشتہ کئی ماہ سے حکومت مخالف انتہا پسندوں سے رابطوں میں تھے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے رقوم فراہم کر رہے تھے۔

انہوں نے سخت لہجے میں امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "امریکیو! اپنے ملک میں دفع ہو جاؤ۔ تمہارے لیے وینزویلا میں اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں اپنے ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہمارے اس فیصلے پراوباما انتظامیہ کیا کرتی ہے، ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے"۔

دارلحکومت کراکس میں امریکا کا مستقل سفارت خانہ نہ ہونے کی وجہ سے مسٹر کیلی کیڈرلنگ قائم مقام سفارت کار کے طورپر کام کررہے تھے۔ امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق مسٹر کیلی لینگ جولائی سنہ 2011ء سے وینز ویلا میں امریکا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کے عہدے پرتعینات تھے۔ وینزویلا کے اس اقدام پر امریکا کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔