.

برطانیہ: حجاج کرام نجی حج بروکرز کا "سستا شکار"

حجاج کو"پُرتعیش" سہولیات کی فراہمی کے کاغذی دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حج کا موسم آتے ہی مختلف ملکوں میں حجاج کرام کو لوٹنے کے لیے سرگرم "مافیا" کا کاروبار بھی چمک اٹھتا ہے۔ نجی حج ٹورآپریٹرزحجاج کرام کو مکہ مکرمہ میں پرتعیش قیام وطعام اور رہ نمائی کے ایسے ایسے سنہری خواب دکھا کرانہیں اپنے جال میں جکڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جن کا حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔

پرائیویٹ حج بروکرز کی اس لوٹ مار کا سلسلہ برطانیہ جیسے ملک میں بھی عام ہے۔ جو حجاج کرام قابل اعتماد مگرمہنگی حج فرموں کے ساتھ ڈیلنگ میں ناکام رہتے ہیں، وہی دراصل ان جعلی حج ٹور آپریٹرز کا سستا شکار بنتے ہیں۔ یہ حج بروکرانہیں مکہ مکرمہ میں حرمین کے انتہائی قریب قیام وطعام سمیت ہرقسم کی سہولیات کے خیالی اور کاغذی دعوے کرکے انہیں پھنساتے ہیں اور بعد ازاں انہیں اتنا رسوا کرتے ہیں کہ وہ حج جیسے مقدس فریضہ کو بھول جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے ہرسال موسم حج سے قبل عازمین حج کو ایسے جعلی حج بروکرز کا شکار ہونے سے خبردار کیا جاتا ہے، لیکن اس تنبیہ کے باوجود سیکڑوں حجاج کرام ان جعلی حج کمپنیوں کا کاروبار چمکانے میں غیر ارادی طورپر ان کی مدد کرتے ہیں۔ لندن حکومت کی جانب سے باضابطہ طورپر یہ وضاحت ہرسال جاری کی جاتی ہے کہ وہ سستے حج ٹورآپریٹرز کے شنکجے میں نہ آئیں، کیونکہ یہ لوگ پرتعیش سہولیات کی فراہمی کے محض کھوکھلے دعوے کرتے ہیں اور مکہ مکرمہ میں لے جا کرانہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔

برطانوی حکومت میں اسلامی امور کے ایک ماہر ڈاکٹر یونس التیناز کا کہنا ہے کہ "ہمارے ملک میں ہرسال ہزاروں حجاج کرام جعلی حج بروکرز کے جال میں پھنس کردھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ نام نہاد حج ٹورآپریٹر نسبتا کم قیمت حج کی "آفر" کرتے ہیں، جن سے بظاہر ان کا خلوص دکھائی دیتا ہے لیکن دراصل وہ لوگ صرف رقوم اینٹھنے کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ان کا کوئی متبادل نظام نہیں ہوتا اور ان کے ذریعے جانے والے حجاج کرام ہمہ نوع مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں"۔لوٹنے والوں میں بہروپیے حجاج کے دل جیتنے کے لیے ناقابل یقین ڈھنگ اختیار کرتے ہیں۔ یہ لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کا لبادہ اوڑھ کرمساجد میں بیٹھ جاتے ہیں اور عازمین حج کو اپنے 'تقویٰ' کے جال میں پھنساتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ برطانیہ کے ایک عرب شہری حسام محمود نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ دوسال پیشتر لندن کی ایک مسجد میں نہایت پرہیز گار اور صوم صلواۃ کے پابند ایک شخص نے کہا کہ اس نے سعودی سفارت خانے سے حج ویزے حاصل کر رکھےہیں۔ اس کے ساتھ اس نے سعودی عرب میں مختلف ہوٹلوں اور کرائے پرلی گئی عمارتوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ ہم بھی اس نوسرباز کے جال میں پھنس گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم رقوم بھی دے بیٹھے مگر حج کی سعادت سے بھی محروم رہے، کیونکہ موصوف صرف حجاج کرام کو بے وقوف بنانے کے لیے مسجد کو استعمال کر رہے تھے، جو پیسے لے کرغائب ہوگئے"۔

حسام محمود کا کہنا ہے کہ اس باربھی کئی ایسے نوسرباز برطانیہ کی مساجد میں عازمین حج کو اپنے شکنجے میں پھنسانے کے لیے جعلی تقویٰ اور زہد و ورع کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا ہرسال ہوتا ہے، حج کا موسم آتے ہی نہ معلوم یہ نام نہاد حج بروکر کہاں سے مساجد میں آجاتے ہیں حالانکہ سال کے بقیہ ایام میں شائد یہ نماز بھی کم ہی ادا کرتے ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ ہرسال عازمین حج کے لیے سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ براہ راست معاملات طے کرتی ہے۔ برطانیہ سے سرکاری حج کمیشن کے ذریعے حج کے لیے آنے والے تمام عازمین حج کی فہرست پہلے ہی سعودی عرب کو فراہم کردی جاتی ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق برطانیہ سے سالانہ 25 ہزار فرزندان توحید حج کے لیے دیار مقدسہ کا رخ کرتے ہیں۔حرمین کی جاری توسیع کے باعث اس سال برطانیہ سے آنے والے عازمین حج کی تعداد بھی نصف رہ گئی ہے۔ کیونکہ ریاض حکومت نے تمام ممالک کو پہلے ہی مطلع کردیا ہے کہ وہ ہر ملک کے حج کوٹے میں اس سال 50 فی صد کمی کریں گے تاکہ توسیعی منصوبے کے باعث حجاج کرام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

برطانیہ میں مقیم ایک عرب مسلمان "خلیل صالحہ" نے بتایا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حج کےاخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چند سال قبل ایک شخص 2500 آسٹریلو پاؤنڈ میں بہ آسانی فریضہ حج ادا کرلیتا تھا لیکن اب یہ اخراجات 4000 پاؤنڈز سے تجاوز کرچکے ہیں، فائیواسٹار قیام گاہوں میں رہنے والے حجاج کرام کو آٹھ سے دس ہزار پاؤنڈز ادا کرنا پڑتے ہیں۔