.

بنگلہ دیش:اپوزیشن کے سرکردہ لیڈر کو سزائے موت کا حکم

صلاح الدین قادرچودھری پر1971ء میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے حزب اختلاف کے سرکردہ لیڈر اور رکن پارلیمان صلاح الدین قادر چودھری کو ؁ 1971 ء میں مشرقی پاکستان کی علاحدگی کے وقت خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات میں قصور وار قرار دے کرسزائے موت کا حکم سنایا ہے۔

صلاح الدین قادر چودھری حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) کے منتخب رکن پارلیمان ہیں۔جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے منگل کو اپنے فیصلے میں انھیں پاکستان سے مبینہ ''آزادی'' کی جنگ کے دوران تشدد ،آبروریزی اور نسل کشی کے الزامات میں قصوروار قراردیا گیا ہے۔

چونسٹھ سالہ چودھری پر پاکستان کی فوج کے ساتھ مل کر 1971ء کی جنگ کے دوران دوسو غیر مسلح شہریوں کی ہلاکت ،ان پر تشدد اور دیگر جنگی جرائم کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ڈھاکا میں ان کے خلاف جنگی جرائم کے متنازعہ ٹرائبیونل کے فیصلے سے قبل سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئِی تھی۔

بنگلہ دیش کا یہ متنازعہ ٹرائبیونل اب تک جماعت اسلامی کے سات سنئیر عہدے داروں کو جنگی جرائم کے مقدمات مِیں سزائے موت سناچکا ہے۔ان کے علاوہ متعدد کے خلاف قتل عام میں حصہ لینے ،خواتین کی آبروریزی اورانھیں جنسی اور مذہبی طور پر ہراساں کرنے جیسے بے ہودہ الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کی قیادت کے خلاف حالیہ مہینوں کے دوران جنگی جرائم کے ان مقدمات کے فیصلوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور احتجاجی مظاہروں کے دوران کم سے کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ؁ 2010ء میں ؁ 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام کے مخالفین اور پاکستان کے حامیوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے یہ خصوصی ٹرائبیونل قائم کیا تھا۔اس خصوصی عدالت نے چند ماہ قبل جماعت اسلامی کے سابق سربراہ پروفیسر غلام اعظم کو 1971ء کی جنگ کے دوران نسل کشی ،انسانیت مخالف جرائم اور قتل کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔

جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اس خصوصی عدالت کو ''شوٹرائل''قرار دے کر مسترد کرچکی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس ٹرائبیونل میں مقدمے کی سماعت کے لیے اختیار کردہ طریق کار انصاف کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے بانی قراردیے جانے والے لیڈر مقتول شیخ مجیب الرحمان کی جماعت اور ملک کی موجودہ حکمران عوامی لیگ اور اس کے حامی 1971ء کی جنگ کی اپنے انداز میں تعبیروتشریح کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ اس کو آزادی کی جنگ قراردیتے ہیں جبکہ پاکستان اور اس کے حامی طبقے اس جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کو اور طرح سے بیان کرتے ہیں اوروہ عوامی لیگیوں کو بھی جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کا برابر کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

عوامی لیگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ 1971ء کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور اس کی حامی مقامی تنظیموں نے تیس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا تھا لیکن آزاد اور غیر جانبدار مورخین ہلاکتوں کے ان اعداد وشمار کو تسلیم نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے لیڈر سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں اور وہ اس جنگ میں بھارت اور دوسری غیرملکی طاقتوں کے مکروہ کردار کو یا تو بالکل گول کرجاتے ہیں یا پھر اس کو معروضی انداز میں پیش کرنے سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنگ کے وقت پیش آئے واقعات اور زمینی حقائق ان کے یک طرفہ موقف کی تائید نہیں کرتے ہیں۔