.

ترک صحافی کا بٹوا، اسرائیلی فوج کے قبضے سے آزاد

تین سال بعد'' ایمانداری'' سے بٹوا خالی کر کے واپس کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائِیلی فورسز نے ترک صحافی کا بٹوا خالی کر کے تین سال بعد ''ایمانداری'' سے واپس کر دیا ہے۔ صحافی اسرائیلی واردات کے خلاف عدالت سے رجوع کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق تین سال پہلے مورت پلوار نامی ترک صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے غزہ میں زیر محاصرہ فلسطینیوں کی امداد کیلے جانے والے جہاز فوٹیلا کے ساتھ گیا تھا۔

انسانی بنیادوں پر امداد لے کر جانے والا فوٹیلا جب بین الاقوامی پانیوں میں محو سفر تھا تو اسرائیلی فوج نے غیر قانونی طور پر کارروائی کر کے اس پر سفر کرنے والوں کا سامان قبضے میں لے لیا تھا۔

تین سال پہلے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مبینہ طور پر لٹنے والے اس صحافی کو اسرائیل سے آنے والی ایک فون کال پر کہا گیا کہ وہ اپنا بٹوا اور اس میں موجود رقم ودیگر اشیاء واپس لے سکتا ہے۔

اس اسرائیلی پیش کش پر ترک صحافی یہ بٹوا لینے کے لیے پہنچا تو اسے متعلقہ اسرائیلی حکام نے ایک خالی بٹوا تھما دیا گیا۔ اس میں سے اس کی رقم غائب تھی، جبکہ اسرائیلی فوجیوں نے صحافی کے ضروری کاغذات اور کارڈز پر بھی ہاتھ صاف کرنا اپنا حق سمجھا۔

ترک اخبار سافاق کے نمائندے مورت پلوار کے مطابق وہ اس سلسلے میں عدالتوں سے رجوع کرے گا۔ اسرائیل اس سے پہلے فریڈم فوٹیلا پر فوجی کارروائی کرنے کے حوالے سے بھی عالمی عدالت انصاف میں سبکی کا سامنا کر رہا ہے۔