.

سوڈان:حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 700 افراد گرفتار

بشیر حکومت کا سرحدی علاقوں کے باغیوں پرتشدد میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے ،توڑ پھوڑ اور بلووں کے الزام میں سات سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سوڈانی وزیر داخلہ ابراہیم محمود حماد نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران چونتیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ آزاد ذرائع ،بعض سفارت کار اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو بتا رہی ہیں۔

ابراہیم حماد کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست گولی نہیں چلائی جبکہ مشتعل مظاہرین نے چالیس سے زیادہ پولیس اسٹیشنوں ،تیرہ بسوں اور متعدد نجی کاروں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے تھے حالانکہ ان کا مظاہروں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوڈان کے سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے باغی تشدد کے ان واقعات میں ملوث تھے۔

درایں اثناء سوڈانی پولیس نے خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان میں ایک یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرنے والی طالبات کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے ہیں۔جامعہ احفاد برائے خواتین کے سربراہ جاسم بدری نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈیڑھ سو سے دوسو کے درمیان طالبات ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔انھوں نے بتایا کہ پولیس کمیپس کی حدود میں تو داخل نہیں ہوئی لیکن اس نے باہر سے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

حکومت کی جانب سے زرتلافی واپس لیے جانے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 60 سے 100 فی صد تک اضافے کے خلاف 23 ستمبر سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور سوڈانی صدر کو اپنے 24 سالہ دورحکمرانی میں شدید بحران کا سامنا ہے۔

مظاہروں کے دوران مشتعل افراد نے خرطوم میں متعدد کاروں اور پٹرول اسٹیشنوں کو نذرآتش کردیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔انھوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسائےاور گولی چلانے سے گریز کیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو دارالحکومت خرطوم میں پانچ ہزار سے زیادہ مظاہرین نے حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی تھی اور یہ کئی سال کے بعد وسطی سوڈان میں سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔اسی روز سوڈانی حکومت نے العربیہ ٹی وی کے دفتر کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

صدرعمرحسن البشیر کی حکومت نے 23 ستمبر کو معیشت میں اصلاحات کے پروگرام کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دیاجانے والا زرتلافی واپس لے لیا تھا اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔؁ 1989ء میں فوجی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے صدر عمرحسن البشیر کی حکومت کے خلاف یہ بدترین مظاہرے ہیں۔ان مظاہروں کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے دارالحکومت خرطوم میں 30 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند کردیے تھے۔