.

نیتن یاہو کا ردعمل جھوٹ، فریب اور خوف پر مبنی ہے: جواد ظریف

''اسرائیلی وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں دنیا کا سب سے تنہا شخص تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایرانی صدر حسن روحانی کے خیالات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے کیے گئے تبصروں اور ظاہر کیے گئے ردعمل کو لغو، فریب اور خوف پر مبنی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے حسن روحانی کے جنرل اسمبلی سے خطاب اور حالیہ انٹرویوز کے حوالے سے کہا تھا کہ '' یہ مغربی ملکوں کے ساتھ تعلقات بنانے کے لیے مصنوعی دلکشی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔''ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید ایک انٹرویو میں کی ہے۔

نیتن یاہو نے پچھلے سال ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک کارٹون کا سہارا لیتے ہوئے جنرل اسمبلی میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔

جواد ظریف نے کہا'' گزشتہ بائیس سال سے صیہونی رجیم نے جھوٹ کا لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ ایران چھ ماہ کے اندر اندر جوہری بم بنا لے گا، اس لیے اب دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان جھوٹ پر مبنی اسرائیلی الزامات کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔''

واضح رہے ایرانی صدر کے نیو یارک میں سامنے آنے والے خیالات کے بعد نیتن یاہو نے امریکا پہنچ کر پہلے واشنگٹن میں امریکی صدر اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں، تاکہ حسن روحانی کا توڑ کرسکیں۔ بعد ازاں جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر کے خیالات کو ایک مصنوعی دلفریبی قراردینے کی تیاری کی۔

واشنگٹن میں اپنی گفتگو میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ''ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جوہری اسلحے اور پروگرام کو ختم کر دے۔''

اس کے جواب میں وزیر خارجہ ایران جواد ظریف نے نیتن یاہو کو جنرل اسمبلی میں سب سے زیادہ تنہا آدمی قرار دیا ہے۔