.

اقوام متحدہ کا شام میں دربدر لوگوں کے لیے انسانی امداد پر زور

شامی حکومت سے خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ خانہ جنگی کا شکار علاقوں میں دربدر شہریوں تک انسانی امداد کی فراہمی کے لیے رسائی دے۔

سلامتی کونسل نے بدھ کو شام کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں سرحدپار سے انسانی امداد کی کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سلامتی کونسل تمام فریقوں اور خاص طور پر شامی حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ متاثرہ شامی عوام تک فوری انسانی امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ ،اس کے امدادی اداروں اور انسانی امداد کی سرگرمیاں انجام دینے والوں کے لیے مناسب اقدامات کرے''۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے کہا کہ وہ گذشتہ ہفتے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق قرارداد پر فوری عمل درآمد چاہتے ہیں۔بیان کے مطابق:''تنازعے کا شکار سرحدی علاقوں میں پڑوسی ممالک سے بلارکاوٹ انسانی امداد کی رسائی ہونی چاہیے''۔

واضح رہے کہ شامی حکومت پڑوسی ممالک سے امدادی مشنوں کی مخالفت کرتی چلی آرہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ امداد باغی قوتوں کے ہاتھ لگ جائے گی۔بعض تجزیہ کاروں نے بھی اس حوالے سے اپنے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ باغی گروپ حکومت کے کنٹرول والے علاقوں تک شاید امداد نہ جانے دیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اکیس لاکھ سے زیادہ شامی بے گھر ہوکر بیرون ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ملک کے اندر دربدر ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ولیری آموس گذشتہ کئی ماہ سے شام میں جاری تنازعے کے حوالے سلامتی کونسل سے اقدامات کا مطالبہ کررہے تھے۔

اقوام متحدہ کے اداروں کو شامی مہاجرین کی امداد کے لیے اربوں ڈالرز کے فنڈز درکار ہیں۔سیکرٹری جنرل بین کی مون ان رقوم کو پورا کرنے کے لیے جنوری میں کویت میں ایک عالمی امدادی کانفرنس بلانے کی اپیل کی ہے۔