.

امریکی سینیٹ کیطرف سے ایران کیخلاف مزید پابندیاں موخر

جنیوا میں ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کیلیے ساز گار ماحول پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان فی الحال موخر ہو گیا ہے۔ امریکی سینیٹ کے ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ اس نسبتا بدلے ہوئے اور بہتر سلوک کی وجہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر امکانی مذاکرات ہیں۔

اس لیے کہا جا رہا ہے کہ جب تک ان مذاکرات کا امکان ہے اور مذاکرات آگے بڑھنے کا امکان ہو گا مزید پابندیوں سے ایران بچا رہے گا۔

یاد رہے ایران کے خلاف پابندی کے امکان اور جواز پر بحث کرنے کے لیے امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کا اجلاس پچھلے ماہ ستمبر میں ہونا تھا، لیکن ایران کی طرف سے حالیہ دنوں میں دیے گئے مثبت اشاروں کے بعد یہ اجلاس ابھی تک موخر ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ابھی مزید کئی ہفتوں تک موخر رہے گا.

سینیٹ کے ذرائع کا کہنا ہے '' اس موضوع پر سینیٹ کے متعلقہ حکام میں بات چیت جاری ہے کہ کیا یہ اس وقت بہتر ہو گا کہ جب مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں۔'' ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر اور بینکنگ کمیٹی کے رکن باب کورکر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ'' مذاکرات کا ایک دور تو ہونے دیں۔''

کہا جا رہا ہے کہ امریکا پر دباو ہے کہ ایران کے خلاف اتنا سخت انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ ایران کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے اچھی امید اور توقع کی جانی چاہیے، کیونکہ مزید پابندیوں کے نفاذ میں تاخیر سے ہی مذاکرات کیلیے بہتر ماحول بن سکتا ہے۔

اس بارے میں اب تک کی اطلاعات یہ ہیں امریکا اور ایران کے صدور کی فون پر ہونے والی تاریخی بات چیت کے بعد ایران اور دنیا کے چھ بڑے ممالک کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کی میز پر 15 اور 16 اکتوبر کو پہلا آمنا سامنا متوقع ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں'' کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام روکنے کے لیے تنہا بھی کارروائی کر سکتا ہے۔'' بلا شبہ اسرائیل کی طرف سے عالمی نمائندوں کو یہ ایک خوفناک انتباہ تھا۔