.

امن کا کلید بردار

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امن کی خواہش اور جنگ سے گریز بزدلی ہے نہ اس میں کسی قسم کی ہزیمت، کٹھن اور مشکل حالات میں قوم کی ڈگمگاتی ناؤ کو محفوظ طریقہ سے ساحل مراد تک لے جانا ہی اصل دلیری ہے۔ نوازشریف نے مشکل راستہ کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ اس کی خواہش کو حقیقت بنانے کیلئے تیشہ تدبیرسے نامساعد حالات کی پہاڑیوں سے کوہکن کی طرح قومی مفاد کی جوئے شیر کھودنی پڑتی ہے۔

امن کی خواہش، دیوارکے دوسری طرف بیٹھے پڑوسی، جس کی دشمنی سے، توسیع پسندانہ جبلت سے کسی کو انکار نہیں، سے اچھے تعلقات کی خواہش، دوستی کی کوشش ،مشکل راستہ ہے۔ پیچیدگیاں بہت ہیں، رکاؤٹیں ان گنت ،پڑوسی کا ٹریک ریکارڈ انتہائی خراب، آزادی ہند سے لیکر آج تک کوئی ایک موقعہ ایسا نہیں جب پڑوسی نے نقصان پہنچانے کا، صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا کوئی ایک موقعہ بھی ضائع کیا ہو۔ قیام پاکستان سے لیکرآج تک اثاثہ جات کی تقسیم ہو، برصغیرمیں قائم خود مختار ریاستوں کے ساتھ الحاق کے معاہدہ ہویا پھر ریاست جموں وکشمیر پرغاصبانہ قبضہ، آزادی کے چند سالوں بعد رن آف کچھ اور دیگر سرحدی علاقوں میں جارحانہ خلاف ورزیاں، 1965 کی جارحیت جس میں بھارت کو ذلت آمیزشکست ہوئی، پاکستان کے دوسرے بازومشرقی پاکستان میں نفرت اور بغاوت کے بیج بوکرعلیحدگی پسندی کی زہریلی فصل کی تیاری، اس زیرہلی فصل کی خوراک سے باغیوں نے آزادی کی قوت حاصل اورآخری مرحلہ پرننگی جارحیت کا ارتکاب کرکے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے بنگلہ دیش بنانے کی راہ ہموارکرنے تک ہمارے ہمسائے کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ اٹھارہ کروڑ، عوام کے منتخب نمائندے، نوازشریف نے جنگی جنون کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے امن کا سپنا دیکھ کر، اسکی تکمیل کیلئے امن کی پٹری پر چلنے کی خواہش کی ہے تومشکل ترین، کانٹوں بھری شاہراہ کو سفرکیلئے چنا ہے۔اس راستہ پر سفر، جس کے ہر قدم پر بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود دوسرا کوئی راستہ نہیں۔

مذاکرات کی میز پر ایک جانب پاکستان جس نے ہمیشہ بین الاقوامی معاہدات ہوں یا باہمی ایگری منٹ، کے تقدس کو کبھی پامال نہیں کیا، لیکن مذاکرات کی میز پر بیٹھا، دوسرا فریق، جو زبردستی یا مجبوری کے باعث بیٹھے ہوئے فریق کی طرح کسی نہ کسی حیلے بہانے سے، کسی خود ساختہ واقعہ یا اپنے ڈیزائن کردہ ڈرامے ،کبھی کسی غیر ریاستی عنصر کی جذباتی لغزش کو جواز بنا کر مذاکراتی کرسی کو خالی چھوڑ جاتا ہے کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ جاری رکھنا پل صراط پر چلنے سے کم نہیں ۔ مذاکرات شروع کرکے اُدھورے چھوڑ جانا، کاغذوں پر لکھے گئے معاہدوں کی من مانی تشریحات کرنا یا ان سے سرے سے مکر جانا بھارتی مذاکرات کاروں کی بازیگری کے آزمودہ ہتھیار ہیں۔ پاک بھارت مذاکرات کی ٹوٹتی، جڑتی، بنتی، بگڑتی تاریخ میں ایسے واقعات کی بھرمار ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ہوا، آج بھارت بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس معاہدے کی نت نئی تشریحات کر کے پاکستان کی معیشت کی شہ رگ دریاؤں میں بہتے پانیوں کو چرا لینے کے درپے ہے۔ مسئلہ کشمیر قراردادوں کے مطابق حل کرنے سے منکر ہو چکا ہے۔ سرکریک ہو، سیاچن کی برف پوش چوٹیوں پر تاریخ انسانی کی مہنگی ترین جنگ، جہاں متحارب فوجیں نہیں ،بلکہ سفاک اور بے رحم موسم ،سب سے بڑا قاتل ٹھہرتا ہے۔ کھلے سمندروں میں مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر خاندانوں سے بدسلوکی ہو ،ویزا معاہدات کی خلاف ورزی ہو ،پاکستان آرٹسٹوں، مصوروں کی توہین اورہزیمت، زائرین کو ٹرینوں میں جانوروں کی طرح دھونس کر زیارتی مقامات تک پہنچانے کا اذیت ناک عمل اور منقسم خاندانوں کو ویزے کیلئے اذیت پسندی کی حد تک جان لیوا انتظار میں مبتلاء رکھنے کی پالیسی، یہ سب بھارتی حکمت کاروں کی سوچی سمجھی سٹریچی ہے۔ جس کا مقصد پاکستا نیوں کو اپنی بالادستی کا مسلسل احساس دلانا ہے۔ یہ سب حقائق اپنی جگہ، پاک بھارتی تلخیوں کی گفتنی اور ناگفتنی تاریخ کے لگے زخم اپنی جگہ پر موجود ہیں اور رہیں گے۔ لیکن جس طرح تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا اُس طرح جغرافیہ بھی تبدیل نہیں ہو سکتا ۔ جس طرح تاریخ کے ہاتھوں لگے زخموں پرصبر اور مصلحت کا مرہم رکھ کر اس تکلیف کو فراموش کر نا پڑتا ہے ،اسی طرح جارحیت پرآمادہ، ہمیشہ زک پہنچانے پر تلے ہوئے خودسرہمسائے کے ساتھ زندہ رہنے، اس کو برداشت کرتے ہوئے، اپنی بقاء کیلئے، اپنی توانائیاں اپنے آپ کو مضبوط اور طاقت ور بنانے کیلئے صرف کرنے کی غرض سے مصلحت، تدبر اور تفکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ آج لمحہ موجود کی حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی قوم کو اپنی بقاء کیلئے اپنے وجود کو لاحق خدشات کو کھلی آنکھوں سے دیکھ کر حقائق کی کسوٹی پر پرکھ کر اپنے ازلی دشمن ہمسائے سے دوستی نہ سہی معمول کے تعلقات قائم کرناہونگے۔ کیونکہ پاکستان اور بھارت کے مسائل اوران کا حل ایک جیسا ہے ۔

پاکستان کو اندرونی داخلی خلفشار اور دہشت گردی کا سامنا ہے تو بھارت بھی دہشت گردی کا شکار ہے ۔ پاکستان میں آبادی خودرو جڑی بوٹیوں کی طرح تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ بھارت کی وسیع و عریض دھرتی کے سینے پر سوا ارب سے زائد آبادی کا بوجھ لدا ہوا ہے ۔ پاکستان میں سولہ گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ ہے تو بھارت میں 30 کروڑ افراد ایسے ہیں، جن کو سرے سے بجلی ایسی دور جدید کی نعمت سے میسرہی نہیں۔ بھارت میں ممبئی ایسے بڑے شہروں میں مافیا دندناتے پھرتے ہیں توکراچی بھی ٹارگٹ کلر کے نرغے میں ہے۔ بھارت کے ماؤنواز گوریلے ،نکسل باڑی ،میزورام اور نا گا لینڈ کے گوریلے اس کے جسم پر چرکے لگا رہے ہیں تو بھارت سے بہت چھوٹے پاکستان کو بھی بلوچ مزاحمت کاروں کی مسلح کارروائیوں کا سامنا ہے۔ بیروزگاری، جہالت، صحت عامہ کی سہولتوں کی عدم دستیابی، خود کشیاں، زراعت کی تباہی اور لاقانونیت دونوں ممالک کے فیصلہ سازوں کیلئے چیلنج بنی ہوئی ہے۔

نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ڈرون حملوں کی مخالفت ،بین الاقوامی برادری کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان عوام کو یہ کھلی جارحیت ہر گز قابل قبول نہیں۔ اسی خطاب میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے زور دیتے ہوئے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کو پاور کرایا ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی حل طلب اور پاکستان کیلئے کور ایشو ہے اور اقوام عالم کی ثالثی کے ذریعے انصاف کا منتظر ہے۔ نواز شریف اور منموہن سنگھ کی ملاقات سے کسی کو بھی معنی خیز نتائج کی ہر گز توقع نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود یہ ملاقات پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کامیابی ہے۔ پاکستان نے سپر پاور کو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے کامیابی سے دباؤ ڈالا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کیلئے میز پر لائے اور آخری نتیجہ کے طور پر بھارت کو پاور یا ایسا کرنا پڑا۔

نواز شریف کو جن کی سیاست محاذ آرائی اور بھارت دشمنی کے خمیر سے اُٹھی ،حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ برصغیر میں قیام امن کی کلید ان کے حالات میں ہے۔ نواز شریف نے منموہن سنگھ سے ملاقات میں امن عمل کو فروری 1999 میں معاہدہ لاہور کو بنیاد بنا کر جامع مذاکرت کی آگے بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔ بھارتی انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں ۔ اب تک انتخابی تجزیوں کے مطابق نرنیدر مودی کو اپنے حریفوں پر برتری حاصل ہے۔ سو نواز شریف کی یہ پیشکش میں الوداع ہوتے منموہن سنگھ کیلئے نہیں، بلکہ آنے والے حکمران کیلئے ہے کہ معاہدہ لاہور کی فریق بی جے پی اور اس کا دانش ور وزیر اعظم واجپائی تھا۔

برصغیر کے بھوک سے بلکتے عوام امن کے منتظر ہیں۔ ان کی ضرورت جنگ میں جیتے میڈل نہیں، کھیتوں میں اُگی فصلیں اور خوارک ہیں۔ بیلسٹک میزائل اور طیارے نہیں، روزگار، صحت اور تعلیم ہے ۔

جہاز دیس میں بنتے ہوں تو غریب کو کیا
یہ دیکھنا ہے کہ گیہوں اور کپاس کتنا ہے

بشکریہ روزنامہ نئی بات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.