.

مسلم تنازعات پرعدم فعالیت،سعودی عرب کی اقوام متحدہ میں تقریر منسوخ

اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں بعض ممالک پر اجارہ داری کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں اپنی تقریر منسوخ کردی ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ عالمی ادارہ عرب اور مسلم دنیا کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب کا کوئی عہدے دار تقریر نہیں کررہا ہے۔سفارتی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کا فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ وہ عرب اور اسلامی دنیا کے ایشوز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے موقف اور اقدامات سے مطمئن نہیں ہے کیونکہ اقوام متحدہ گذشتہ 60 سال سے زیادہ عرصے سے تنازعہ فلسطین اور اب شامی بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایک سعودی سفارت کار نے اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی کے عمل میں بعض ممالک کی اجارہ داری کا بھی حوالہ دیا ہے جس کی بنا پر سعودی عرب نے تقریر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار جمال خشوجی کا کہنا ہے کہ ''سعودی عرب کو شام کے بارے میں تشویش ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے حالیہ قرارداد شام کو مذاکرات کے غیرمختتم تاریک غار تک لے جائے گی''۔

خشوجی کا مزید کہنا تھا کہ ''سعودی عرب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا سرکردہ ملک ہے اور وہ دوسری خلیجی ریاستوں کو بھی اسی طرح کا موقف اپنانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔عرب ممالک بالعموم اہم ایشوز پر سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں۔حتیٰ کہ ایران بھی اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوسکتا ہے''۔