.

نواز شریف کا دورۂ اقوام متحدہ۔ چند حقائق؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم نواز شریف کا سات روزہ دورہ اقوام متحدہ کئی لحاظ سے ماضی کے پاکستانی حکمرانوں کے ایسے ہی دوروں سے مختلف امریکی’’ورکنگ لنچ‘‘ کی طرح کا ایک ورکنگ وزٹ‘‘تھاجس کا بیشتر وقت سرکاری مصروفیات کیلئے مخصوص تھا، گلف اسٹریم ساخت کے تقریباً بارہ نشستوں والے بزنس جیٹ طیارے میں سفر کر کے بحراٹلانٹک کو پار کر کے جے ایف کینڈی ایئرپورٹ پر23ستمبر کی رات کو پہنچے اور اگلی صبح امریکی صدر اوباما کا خطاب سننے چلے گئے۔ اسی طرح 29 ستمبر کو اپنے دورے کی اہم اور مشکل ترین مصروفیت ’’نواز، منموہن ملاقات اور مذاکرات کا سیشن ختم ہوتے ہی وہ کینڈی ایئرپورٹ چلے گئے جہاں ان کو لندن سے نیویارک لانے کیلئے وہی گلف اسٹریم طیارہ نیو یارک کے لندن لانے کیلئے تیار تھا جو انہیں امریکہ سے برطانیہ اور وہاں سے پاکستان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ماضی میں پی آئی اے کے مسافر بردار طیاروں میں سفر کرکے وی آئی پی غیرملکی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کا اس سفر کے اخرابات سے موازنہ حقائق جاننے کیلئے ضروری ہے، وی آئی پی دوروں میں پی آئی اے کے پسنجر شمار طیاروں کے استعمال سے عام مسافروں کو تکلیف، پروازوں کی منسوخی اور آمدنی میں کمی کے اعداد وشمار اور حقائق الگ ہیں، امریکی سرکار بھی صدارتی دوروں پر ساتھ جانے والے صحافیوں کے میڈیا ادارے سفر وقیام کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں اور شاید ایسی روایت کو جزوی انداز میں اس پاکستانی دورے میں اپنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بچت اور کفایت کی یہ شروعات مثبت تبدیلی ہیں، اس تمہید کا مقصد نظر آنے والی کسی اچھی تبدیلی کا خیر مقدم ہے۔

دورے کی عملی افادیت اور ڈپلومیسی کے لحاظ سے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر اور دو ملاقاتوں کو دیگر مصروفیات سے زیادہ اہم اور ضروری قرار دیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات وزیراعظم کے دورے کی جان تھیں جبکہ ایرانی صدر روحانی سے ملاقات بھی اہم کہی جائے گی۔ جان کیری سے ملاقات نے وزیراعظم نواز شریف کی واشنگٹن آمد کو یقینی اور اعلانیہ بنا دیا کہ 23اکتوبر کو واشنگٹن میں صدر اوباما کی دعوت پر سرکاری دورہ کریں گے۔ نواز شریف کی ٹیم کو اگلے چند دنوں میں پاک، امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایجنڈا تیار کرنا ہوگا کہ کون سے امور پر پاکستان امریکہ کے درمیان اتفاق رائے سے چل سکتے ہیں اور کون سے امور پر ہم اختلافات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس دورے کے دوران وزیراعظم کو اکتوبر میں دورہ امریکہ کی دعوت نے نواز شریف کے سفارتی مشیران ومعاونین کی ٹیم اور خود نواز شریف کیلئے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہی حیران کن ایجادات تک موقوف نہیں بلکہ تخلیقی انداز کی ڈپلومیسی کا تقاضا بھی کرتی ہے تاکہ پرانے مسائل کو نئے حقائق کی روشنی میں غیرروایتی انداز میں حل کر کے قوم کو آگے بڑھنے اور نئے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے وقت آنے سے قبل قربانی دینے اور حل تلاش کرنے کی عادت کو پختہ کیا جاسکے۔ نواز منموہن ملاقات دونوں ملکوں کی حکومتوں کیلئے ایک چیلنج تھیں بالخصوص بھارت کے انتخابی مسائل اور اپوزیشن کے نریندرمودی کی جانب سے اپنی انتخابی سیاست کا نشانہ پاکستان کو بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی مہم نے بھارتی کانگریس پارٹی کیلئے مسائل پیدا کر رکھے ہیں لہٰذا نواز منموہن ملاقات کے بارے میں منموہن سنگھ حکومت دبائو کا شکار تھی جسے کم کرنے کیلئے انہیں پاکستان کے خلاف تیز زبان، الزامات اور مذاکرات کیلئے شرائط عائد کرنے کی ضرورت پڑی لہٰذا انہوں نے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے ڈالا اور صورتحال کو وہاں پہنچا دیا جہاں پاکستانی ردعمل نیویارک کی ملاقات کی منسوخی بھی ممکن تھی۔ نواز شریف کے تحمل اورخاموشی کی حکمت عملی نے ایسی کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہیں ہونے دی اور بالآخر نیویارک پیلس ہوٹل کے چوتھی منزل پر بھارتی ٹرف پر نواز منموہن ملاقات دونوں طرف پانچ پانچ معاونین کے ساتھ ایک گھنٹہ کے مذاکرات پر ختم ہوئی۔اس بارے میں دونوں حکومتوں کے ترجمانوں کی پریس بریفنگ پر نظر ڈالئے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ملاقات کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہونے کے باوجود دونوں کیلئے مفید مثبت ملاقات قرار دیا گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دورہ کی دعوت دی مگر تاریخ نہیں دی بلکہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو برا کہنے والا بھارت اسی پاکستانی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کو کشمیر میں کنڑول لائن کو مانیٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ بھی کوئی تاریخ مقرر کئے بغیر اور کوئی نیا میکنزم بنائے بغیر یہ تجویز کیا گیا ہے،دراصل بھارتی حکمراں کانگریس میں اندرونی خلفشار اور اپوزیشن کی مہم نے منموہن سنگھ حکومت کو بوکھلادیا لہٰذا پاک بھارت مذاکرات بھارت کی داخلی انتخابی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے پاکستان نے کوئی قیمت ادا کئے بغیر پاک بھارت کشیدگی کو وقتی طور پر کم کروا دیا ہے جبکہ بھارت بھی نریندر مودی کی سیاست کا شکار ہوئے بغیر اپنی جیت کا دعویٰ کرنے کے قابل ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کا نیویارک رائونڈ کسی ڈرامائی نتیجے کے بغیر ہی ’’ڈرا‘‘ ہو گیا۔

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کے دوران 14سال کے بعد مجھے وزیراعظم سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات اور خصوصی انٹرویو کا بھی موقع ملا وہ 1999ء کے مقابلے میں اب کافی تبدیل نظر آتے ہیں۔ برداشت، قومی مفاد اور صلح جوئی کے جذبات بہت عیاں ہیں اور وہ ملک کو مسائل سے نجات دلانے میں مخلص نظر آتے ہیں لیکن حکومتی مشینری میں ہی بعض ہاتھ نواز شریف کی حکمت عملی اور حکومت کو ناکام بنانے کیلئے منظم طور پر سرگرم نظر آتے ہیں۔ نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کی کوریج کرنے والے صحافی ابھی تک یہ معمہ حل نہیں کر پائے کہ آخر میڈیا کی مکمل آزادی کے اس دور میں نجی میڈیا کے صحافیوں کو وزیراعظم سے تیونس کے صدر، آئی ایم ایف کی سربراہ، بل گیٹس، چینی وزیر خارجہ اور بہت سی دیگر ملاقاتوں کی کوریج کرنے سے کیسے اور کیونکر روکا۔ صرف سرکاری میڈیا کو یہ ملاقاتیں کور کرنے کی اجازت دی گئی۔ عملاً یہ حکم صادر کیا گیا کہ سرکاری ٹی وی سے وڈیو لیں اور سرکاری پریس ریلیز سے خبر بنا کر رپورٹ کریں۔ نواز شریف کو اپنے ارد گرد کے مخالفین اور سازشیوں پر نظر رکھنا چاہئے۔ اس دورے کے سیاسی پہلو پھر سہی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.