.

ایران: محمد خاتمی کا ملک میں ٹارگٹ کلنگ کے خطرات پرانتباہ

"حسن روحانی نے امریکا میں قومی امنگوں کی ترجمانی کی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے خبردار کیا ہے کہ اصلاح پسند صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی امریکا سے واپسی پر قدامت پسندوں نے تہران ہوائی اڈے پران کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ نیک شگون نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک میں اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر محمد خاتمی عراق ۔ ایران جنگ میں حصہ لینے والے سابق فوجی افسران کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ہم انتہا پسندوں کا مقابلہ نہیں کریں گے تو مجھے لگتا ہے کہ ملک میں اصلاح پسند سیاسی اور سماجی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ ایک مرتبہ پھر شروع ہوسکتی ہے"۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو صدر حسن روحانی کی امریکا سے واپسی پر تہران کے ہوائی ڈے پر پہنچے تو ایک مشتعل ھجوم نے جوتوں اور مردہ باد نعروں کے ساتھ ان کا 'استقبال' کیا تھا۔ مخالفین نے دیر تک انہیں ہوائی اڈے سے باہر نکلنے سے روکے رکھا۔ مظاہرین کو صدرحسن روحانی کے امریکی صدر باراک اوباما سے ٹیلیفونک رابطے پر غصہ تھا، لیکن اصلاح پسند اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

سابق صدر محمد حاتمی نے بھی ایران، امریکا صدور کے درمیان ہوئی بات چیت کی حمایت کی۔ قدامت پسندوں پر تنقید کرتے ہوئے محمد خاتمی نے کہا کہ حکومت مخالف عناصر احتجاجی مظاہرے کی آڑ میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، وہ کسی کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ موجودہ حکومت نے امریکا میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہمیں ان شدت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمنا چاہیے۔ انہیں آج اگر روکا نہ جاسکا تو کل کو اہم شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ سے نہیں بچایا جاسکےگا۔

واضح رہے کہ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے دورحکومت میں بھی سیاسی اصلاحات کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم انہیں قدامت پسندوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، حتیٰ کہ شدت پسندوں نے کئی اصلاح پسند سیاست دانوں، صحافیوں اور دانشوروں کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کردیا تھا۔ ان میں سرکردہ اصلاح پسند لیڈر سعید حجاریان سر فہرست تھے۔ محمد خاتمی نے کہا کہ صدر روحانی کے قافلے پرحملہ کرنے والے کسی کےاشارے پر ناچ رہے تھے۔ تہران ہوائی اڈے پر ہونے والے اس پرتشدد مظاہرے کی ڈور بھی کسی اور کے ہاتھ میں تھیں۔